ڈیٹا خودمختاری پر حکومت خاموش کیوں؟ راہل گاندھی کا سخت سوال، ملک کو اندھیرے میں رکھنے کا الزام

راہل گاندھی نے ڈیٹا خودمختاری پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے شفافیت کی کمی پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اہم معلومات، صحت اور مالیاتی ڈیٹا کے تحفظ پر ملک کو واضح جواب نہیں دیا جا رہا

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ملک کی ڈیٹا خودمختاری کے معاملے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ عوام کو اہم معلومات سے لاعلم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کی سمت بڑھ رہی ہے، ایسے وقت میں ہندوستان کو واضح پالیسی اور شفافیت کی ضرورت ہے، لیکن اس کے برعکس حکومت مبہم اصطلاحات کے پیچھے چھپ رہی ہے۔

راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان کا ڈیٹا اس کے عوام کی ملکیت ہے اور یہی ڈیٹا مستقبل کی معیشت، روزگار اور تکنیکی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت سے بارہا پوچھے گئے سوالات کے جواب میں صرف عمومی الفاظ جیسے ’ڈھانچہ‘، ’توازن‘ اور ’خودمختاری‘ استعمال کیے جا رہے ہیں، مگر کسی بھی ٹھوس پالیسی یا یقین دہانی کا فقدان ہے۔

انہوں نے خاص طور پر امریکہ کے ساتھ جاری ڈیجیٹل تجارتی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’رکاوٹیں کم کرنے‘ کا اصل مطلب کیا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی شہریوں کا صحت، مالیاتی اور سرکاری ڈیٹا بیرونِ ملک منتقل کیا جا سکتا ہے؟ کیا غیر ملکی کمپنیاں اس ڈیٹا کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکیں گی؟ ان سوالات پر حکومت کی خاموشی کو انہوں نے تشویشناک قرار دیا۔


یکم اپریل کو پارلیمنٹ میں بھی راہل گاندھی نے اسی موضوع پر سوالات اٹھائے تھے، جن میں ڈیٹا لوکلائزیشن، سرحد پار ڈیٹا کے بہاؤ اور ڈیجیٹل پالیسی کے وسیع ڈھانچے سے متعلق نکات شامل تھے۔ انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا تھا کہ کیا مستقبل میں ایسے معاہدے ہندوستان کی ریگولیٹری خودمختاری کو متاثر کر سکتے ہیں، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل شناخت اور حساس بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے۔

حکومت کی جانب سے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت جتین پرساد نے تحریری جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کا آئی ٹی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور یہ معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان مختلف ممالک کے ساتھ ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور اس ضمن میں کئی آزاد تجارتی معاہدے بھی کیے جا چکے ہیں۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا ہے اور ڈیٹا گورننس میں اپنی خودمختاری برقرار رکھی ہے۔ ان کے مطابق جاری مذاکرات میں بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا جو ملک کی قانونی اور پالیسی خودمختاری کو نقصان پہنچائے۔

تاہم راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ صرف یقین دہانی کافی نہیں، بلکہ عوام کو واضح اور تفصیلی معلومات دی جانی چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیٹا کے معاملے میں شفافیت اور جوابدہی ناگزیر ہے، کیونکہ یہی مستقبل کی معیشت اور قومی سلامتی دونوں کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔