او ایس ایم ٹینڈر تنازعہ پر راہل گاندھی کا سوال، ’کیا مخصوص کمپنی کے لیے معیار میں نرمی کی گئی؟‘
راہل گاندھی نے سی بی ایس ای کے او ایس ایم ٹھیکہ معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ٹینڈر کی شرائط میں مرحلہ وار نرمی کی گئی۔ انہوں نے آزاد عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام سے متعلق ٹھیکہ دینے کے عمل پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹینڈر کی شرائط میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں ایک ایسی کمپنی کو ٹھیکہ ملا جس کی کارکردگی پر پہلے ہی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس پورے معاملے کی آزاد عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پوسٹ میں ایک اخباری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سی بی ایس ای نے آن اسکرین مارکنگ نظام کے لیے تین مرتبہ ٹینڈر جاری کیے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں کوئی بولی موصول نہیں ہوئی، دوسرے مرحلے میں کوئی کمپنی مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتری، جبکہ تیسرے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے تکنیکی شرائط میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن کے بعد متعلقہ کمپنی اہل قرار دی گئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اسکیننگ کی ریزولوشن سے متعلق تقاضے کم کیے گئے، روبوٹک اسکینر کی شرط ختم کر دی گئی، سی ایم ایم آئی سرٹیفکیشن کی سطح پانچ سے گھٹا کر تین کر دی گئی اور جوابی پرچوں میں غلطیوں پر عائد جرمانوں کو بھی ہٹا دیا گیا۔ راہل گاندھی کے مطابق ان تبدیلیوں کے باوجود ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی بھی اہل قرار پائی، لیکن ٹھیکہ دوسری کمپنی کو دیا گیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ آج طلبہ کی جانب سے خراب اسکین شدہ جوابی پرچوں، غائب صفحات اور جانچ کے پورٹل میں تکنیکی خرابیوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اساتذہ نے بھی سی بی ایس ای کو خبردار کیا تھا کہ اس نظام کو ملک بھر میں نافذ کرنے سے قبل کم از کم ایک یا دو سال مزید تیاری کی ضرورت ہے، لیکن اس کے باوجود منصوبے کو جلدی میں نافذ کیا گیا۔
اخباری رپورٹ میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی بی ایس ای نے ٹینڈر کی متعدد شرائط میں مرحلہ وار تبدیلیاں کیں۔ رپورٹ کے مطابق پہلے اور دوسرے مرحلے کے بعد کئی تکنیکی تقاضوں میں نرمی کی گئی، جن میں اسکیننگ کے معیار، خودکار جانچ اور دیگر تکنیکی شرائط شامل تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کچھ ماہرین اور اندرونی جائزوں میں جوابی پرچوں کی اسکیننگ کے معیار اور نظام کی تیاری سے متعلق خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
دوسری جانب سی بی ایس ای اور مرکزی حکومت کا موقف رہا ہے کہ تمام ضابطہ جاتی کارروائیاں مقررہ طریقہ کار کے مطابق انجام دی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام نے کسی بھی بے ضابطگی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پورا عمل قواعد کے مطابق مکمل کیا گیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ٹھیکہ واقعی بہترین اور سب سے اہل کمپنی کو دیا گیا تھا یا نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف سی بی ایس ای کے معاملے ہی نہیں بلکہ متعلقہ کمپنی کو دیے گئے تمام سرکاری معاہدوں کی بھی آزاد عدالتی جانچ کرائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑے معاملے میں مکمل شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
