سکھوئی–30 حادثہ: راہل گاندھی کا شہید پائلٹوں کو خراج عقیدت، اہل خانہ سے تعزیت
آسام میں سکھوئی–30 لڑاکا طیارہ حادثے میں دو فضائیہ افسران کی موت پر راہل گاندھی نے تعزیتی پیغام جاری کیا۔ انہوں نے دونوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اہل خانہ سے ہمدردی ظاہر کی

نئی دہلی: آسام میں ہندوستانی فضائیہ کے سکھوئی–30 ایم کے آئی لڑاکا طیارے کے حادثے میں دو پائلٹوں کی موت پر کانگریس رہنما راہل گاندھی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہید افسران کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی ظاہر کی ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستانی فضائیہ کے بہادر جوان اسکواڈرن لیڈر انوج اور فلائٹ لیفٹیننٹ پرویش دوراگکر کے طیارہ حادثے میں شہید ہونے کی خبر نہایت افسوس ناک اور تکلیف دہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان کے ان بہادر سپوتوں کو دل سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ اپنی گہری تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مشکل گھڑی میں پورا ملک متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
ادھر، ہندوستانی فضائیہ نے بھی دونوں افسران کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ فضائیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسکواڈرن لیڈر انوج اور فلائٹ لیفٹیننٹ پرویش دوراگکر سکھوئی–30 طیارہ حادثے میں شدید زخمی ہوئے تھے جس کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے۔ فضائیہ کے تمام اہلکار سوگوار خاندانوں کے غم میں شریک ہیں اور اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
واضح رہے کہ ہندوستانی فضائیہ کا سکھوئی–30 ایم کے آئی لڑاکا طیارہ جمعرات کو آسام کے کاربی آنگلونگ علاقے میں ایک تربیتی مشن کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ یہ علاقہ جورہاٹ سے تقریباً 60 کلومیٹر دور واقع ہے۔ ابتدائی طور پر طیارے کے لاپتہ ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔
حکام کے مطابق یہ طیارہ آسام کے جورہاٹ سے اڑان بھرنے کے بعد اچانک ریڈار سے غائب ہو گیا تھا جس کے بعد فوری طور پر تلاشی مہم شروع کی گئی۔ فضائیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیموں نے مشتبہ علاقے میں تلاش کا کام شروع کیا تھا کیونکہ یہ خطہ زیادہ تر پہاڑی اور گھنے جنگلات پر مشتمل ہے۔
بعد ازاں فضائیہ نے دیر رات اس بات کی تصدیق کی کہ سکھوئی–30 ایم کے آئی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ اس حادثے کے بعد فضائیہ نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ طیارہ حادثے کی اصل وجہ کیا تھی اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔