8 سال تک چلی قانونی لڑائی میں راہل گاندھی کو ملی راحت، سلطان پور کورٹ نے ہتک عزتی معاملہ میں کیا بری
ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ شبھم ورما کی عدالت نے آج فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کا تبصرہ ہتک آمیز نوعیت کا نہیں تھا۔

اتر پردیش کے سلطان پور کی ایم پی/ایم ایل اے عدالت نے کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر تبصرہ سے متعلق ہتک عزت معاملہ میں بری کر دیا ہے۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ شبھم ورما کی عدالت نے آج فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کا تبصرہ ہتک آمیز نوعیت کا نہیں تھا۔ فیصلہ سنائے جانے کے وقت راہل گاندھی عدالت میں موجود تھے۔ یہ معاملہ 2018 میں کرناٹک اسمبلی انتخاب کے دوران دیے گئے ان کے ایک بیان سے متعلق تھا۔
راہل گاندھی کے حق میں فیصلہ سامنے آنے کے بعد سلطان پور کی ایم پی/ایم ایل اے عدالت کے باہر کانگریس کارکنوں نے پٹاخے پھوڑ کر جشن منایا۔ اس دوران ایک دوسرے کو مٹھائیاں بھی کھلائی گئیں۔ فیصلہ سننے کے بعد راہل گاندھی لکھنؤ کے لیے روانہ ہو گئے۔ اس سے قبل جب راہل گاندھی سلطان پور جا رہے تھے، اسی وقت پوروانچل ایکسپریس وے پر ان کے قافلے کی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق اس حادثہ میں کچھ لوگ معمولی طور پر زخمی ہوئے تھے۔
بہرحال، راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزتی کا مقدمہ 2018 سے چل رہا تھا۔ مئی 2018 میں راہل گاندھی نے کرناٹک اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران بنگلورو میں بی جے پی کے اس وقت کے قومی صدر امت شاہ کے بارے میں کہا تھا کہ ’’ہندوستان کے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ بی جے پی کے صدر قتل کے ایک معاملے میں ملزم ہیں۔ یہ سچائی ہے۔‘‘ یہ تبصرہ سہراب الدین شیخ کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر کے معاملے سے متعلق تھا۔ امت شاہ کو 2014 میں ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے اس معاملے میں الزامات سے بری کر دیا تھا۔ راہل گاندھی کے بیان کے خلاف مقامی بی جے پی لیڈر وجے مشرا نے 4 اگست 2018 کو سلطان پور کی عدالت میں مجرمانہ ہتک عزت کی شکایت درج کرائی تھی۔
سلطان پور کی ایم پی/ایم ایل اے عدالت نے 27 نومبر 2023 کو راہل گاندھی کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے طلب کیا تھا۔ 20 فروری 2024 کو عدالت میں پیش ہونے کے بعد انہیں ضمانت مل گئی تھی۔ جولائی 2024 میں راہل گاندھی نے اپنا بیان درج کرایا اور الزامات سے انکار کیا۔ ان کا موقف تھا کہ شکایت سیاسی بدنیتی سے متاثر ہو کر درج کرائی گئی ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران شکایت کنندہ کی جانب سے گواہ اور ثبوت پیش کیے گئے۔
شکایت کنندہ کی جانب سے راہل گاندھی کی مبینہ آواز کے نمونے کا ریکارڈنگ سے موازنہ کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا، لیکن ٹرائل کورٹ نے اسے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد اس حکم کو چیلنج کرنے والی عرضیاں بھی ماتحت عدالت اور ہائی کورٹ میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ اکتوبر 2026 میں دونوں فریقوں کی آخری بحث مکمل ہونے کے بعد عدالت نے 26 اکتوبر کو فیصلے کی تاریخ مقرر کی تھی۔
آج راہل گاندھی کو بری کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ان کے بیان کو ہتک آمیز نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس فیصلے کے ساتھ امت شاہ پر تبصرے سے متعلق اس مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمہ میں راہل گاندھی کے خلاف ٹرائل کورٹ کی کارروائی ختم ہو گئی ہے۔ اب شکایت کنندہ کے پاس ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اختیار موجود ہے۔
