راہل گاندھی کا لوک سبھا میں حملہ، ’موجودہ بل خواتین کو بااختیار نہیں بنائے گا، تفریقی نظریہ کو فروغ دینے کی کوشش‘
راہل گاندھی نے لوک سبھا میں کہا کہ موجودہ خواتین ریزرویشن بل خواتین کو بااختیار نہیں بنائے گا بلکہ انتخابی حدبندی کے ذریعے نقشہ بدلنے کی کوشش ہے اور 2023 کا بل دوبارہ لانے کا مطالبہ کیا

نئی دہلی: کانگریس رہنما راہل گاندھی نے لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق جاری بحث کے دوران حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بل خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کے بجائے انتخابی حلقوں کی حدبندی کے ذریعے سیاسی نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سے متعلق لائے گئے ترمیمی بل واپس لیے جائیں اور 2023 کا اصل خواتین ریزرویشن بل دوبارہ پیش کیا جائے، جس کی حمایت اپوزیشن فوری طور پر کرنے کو تیار ہے۔
اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بچپن میں انہیں اندھیرے اور کتوں سے بہت ڈر لگتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک رات ان کی دادی انہیں باہر لے گئیں اور کچھ دیر کے لیے اندھیرے میں اکیلا چھوڑ دیا۔ اس وقت ان کے ذہن میں مختلف خوفناک خیالات آئے لیکن جب دادی واپس آئیں تو انہوں نے سمجھایا کہ اصل میں وہ اپنے ہی ذہن اور تخیل سے ڈر رہے تھے۔
راہل گاندھی کے مطابق ان کی دادی نے انہیں سکھایا کہ سچائی تک پہنچنے کے لیے خوف کا سامنا کرنا ضروری ہے، کیونکہ اکثر سچ اندھیرے میں چھپا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک اہم سیاسی سبق تھا، جسے وہ آج بہتر طور پر سمجھ پا رہے ہیں۔ انہوں نے “ستیم شیوَم سُندرَم” اور سچ و اہنسا کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی سچ کڑوا ہوتا ہے، مگر اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
اسی تناظر میں انہوں نے موجودہ خواتین ریزرویشن بل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسے خواتین کے حق میں ایک بڑے قدم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے نفاذ کو حدبندی کے عمل سے جوڑ دیا گیا ہے، جس سے اس کی نیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ قانون خواتین کو فوری طور پر فائدہ نہیں پہنچائے گا بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل کے ذریعے اسے مؤخر کیا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی پالیسیوں میں کئی اہم سوالات ابھی تک بے جواب ہیں، خاص طور پر او بی سی اور دلت طبقات کے حوالے سے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ان طبقات کے ساتھ ناانصافی کا سبب بن سکتا ہے اور انہیں سیاسی نمائندگی سے محروم کر سکتا ہے۔ انہوں نے اسے ہندوستان کی تاریخ کا ایک کڑوا سچ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اس کی مخالفت جاری رکھے گی۔
انہوں نے مرکز پر الزام لگایا کہ وہ آئین کی روح کے برخلاف ایک خاص نظریہ کو آگے بڑھانا چاہتی ہے، جو سماجی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ایک طرف حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے بیانات دیے جاتے ہیں جن سے تضاد پیدا ہوتا ہے، جس سے حکومت کی نیت مشکوک نظر آتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو یہ خدشہ ہے کہ ملک کی سیاست تبدیل ہو رہی ہے، اسی لیے انتخابی نقشہ بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن متحد ہو کر ایسی ہر کوشش کا مقابلہ کرے گی اور اسے کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ او بی سی اور دیگر پسماندہ طبقات کو ان کا آئینی حق دلانا ضروری ہے اور اپوزیشن اس جدوجہد کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے قوانین کی جو صرف دکھاوے کے لیے پیش کیے جائیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔