راہل گاندھی کا آر ایس ایس پر حملہ، کہا- ’خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے سنگھ‘

راہل گاندھی نے آر ایس ایس کو مردانہ بالادستی کا حامی اور آئین مخالف قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ تنظیم خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتی ہے۔ ان کا بیان موہن بھاگوت کے وجے دشمی خطاب کے دن سامنے آیا

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی </p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے منگل کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ تنظیم خالصتاً مردانہ بالادستی کی حامی اور آئین مخالف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’شیو شکتی‘ میں یقین رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے آر ایس ایس کی نظریاتی سوچ کے خلاف لڑنے میں انہیں خوشی ہوتی ہے۔ کانگریس رہنما نے آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’آر ایس ایس ایک خالصتاً مردانہ بالادستی کا حامی، آئین مخالف گروہ ہے، جو سمجھتا ہے کہ خواتین مردوں کی ملکیت ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آر ایس ایس سے وابستہ سمجھی جانے والی متعدد خواتین بھی اس معاملے میں ان کے موقف کی حمایت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’خوب صورت بات یہ ہے کہ ان کی اپنی کئی خواتین میرے ساتھ ہیں۔‘‘


راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے منگل کو تنظیم کے سالانہ وجے دشمی پروگرام سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں بھاگوت نے اقتدار کی تبدیلی کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں کے اثرات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تحریکیں بنیادی مسائل کا حل فراہم نہیں کرتیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اقتدار کی تبدیلی کے لیے شروع کی جانے والی تحریکیں سیاسی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں سماج میں تقسیم اور اختلافات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بھاگوت کے اس بیان میں سیاسی تحریکوں کے ممکنہ اثرات اور ان کے مقاصد پر توجہ مرکوز کی گئی، جبکہ راہل گاندھی نے اپنے بیان میں آر ایس ایس کی نظریاتی سوچ اور خواتین کے بارے میں اس کے نظریے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی کی تنقید اور موہن بھاگوت کے خطاب کے ایک ہی دن سامنے آنے سے آر ایس ایس اور کانگریس کے درمیان نظریاتی اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوئے ہیں۔