سبھاش چندرا قرض معاملہ: راہل گاندھی کا مودی حکومت پر حملہ، کہا- ’چنندہ متروں کے لیے بینک کا پیسہ نجی ملکیت‘
سبھاش چندرا کے 22 ہزار 6 کروڑ روپے کے قرض دعووں کے مقابلے 6.5 کروڑ روپے کی ادائیگی منصوبے پر راہل گاندھی نے مودی حکومت کو نشانہ بنایا اور ملک میں دو نظام ہونے کا الزام لگایا

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے زی گروپ کے بانی سبھاش چندرا کے ذاتی دیوالیہ پن کے معاملے میں نیشنل کمپنی لا ٹریبونل یعنی این سی ایل ٹی کی جانب سے منظور کیے گئے ادائیگی منصوبے کو لے کر مودی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں عام لوگوں اور چند ارب پتیوں کے لیے الگ الگ نظام قائم کیے گئے ہیں۔
راہل گاندھی نے جمعرات کو ایکس پر کی گئی اپنی پوسٹ میں این سی ایل ٹی کو طنزیہ انداز میں ’نیتا-کمپنی لوٹ ٹریبونل‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کسان 50 ہزار روپے ادا نہ کر پائے تو اس کی زمین نیلام ہو جاتی ہے، جبکہ کوئی تنخواہ دار شخص ایک قسط ادا نہ کر سکے تو بینک کے اہلکار اس کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب طلبہ کو تعلیم کے لیے قرض تک نہیں ملتا۔
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ چنندہ متروں (منتخب دوستوں) کے لیے بینک کا پیسہ نجی ملکیت کی طرح ہے، کتنا بھی نکالو اور جو مرضی چکاؤ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے ملک میں دو نظام بنا رکھے ہیں، ایک چند ارب پتیوں کے لیے اور دوسرا باقی سب کے لیے۔
راہل گاندھی کا یہ حملہ این سی ایل ٹی کی جانب سے سبھاش چندرا کے ذاتی دیوالیہ پن کے معاملے میں پیش کیے گئے ادائیگی منصوبے کو منظوری دیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت قرض دہندگان کے تقریباً 22 ہزار 6 کروڑ روپے کے تسلیم شدہ دعووں کے مقابلے میں صرف 6.5 کروڑ روپے ادا کیے جائیں گے۔ اس طرح قرض دہندگان کو تقریباً 99.97 فیصد رقم سے محروم ہونا پڑے گا۔
این سی ایل ٹی نے یہ منصوبہ قرض دہندگان کی 80.81 فیصد ووٹنگ حمایت کے بعد منظور کیا۔ ٹریبونل کے تیسرے رکن نیلیش شرما نے اختلافی فیصلے کو ختم کرتے ہوئے منصوبے کی منظوری دی۔ اس سے قبل این سی ایل ٹی کے دو رکنی بینچ میں اس معاملے پر اختلاف رائے سامنے آیا تھا، جس کے بعد تیسرے رکن کو فیصلہ کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔
کئی بڑے قرض دہندگان نے منصوبے کی مخالفت کی تھی۔ ایل آئی سی ہاؤسنگ فنانس کی قیادت میں قرض دہندگان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اتنی کم رقم کی وصولی والا منصوبہ ناقابل عمل اور قانون کے خلاف ہے۔ تاہم ٹریبونل نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کو مسترد کرنے کی صورت میں قرض دہندگان کے لیے زیادہ رقم کی وصولی کے امکانات موجود نہیں تھے۔ ٹریبونل نے سبھاش چندرا کے ذاتی اثاثوں کی قدر پیمائی کو بھی مدنظر رکھا اور کہا کہ ان کی موجودہ جائیداد اور اثاثوں کی مالیت پیش کردہ رقم سے زیادہ وصولی کی ضمانت نہیں دیتی۔
سبھاش چندرا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تقریباً 22 ہزار کروڑ روپے کے دعوے ان قرضوں سے متعلق ہیں جن کے لیے انہوں نے ذاتی ضمانت دی تھی، نہ کہ وہ خود ان تمام قرضوں کے براہ راست قرض دار تھے۔ ان کے مطابق جن اداروں کے قرض کی انہوں نے ضمانت دی تھی، وہ تقریباً 45 ہزار کروڑ روپے کی واجب الادا رقم میں سے تقریباً 43 ہزار کروڑ روپے پہلے ہی ادا کر چکے ہیں اور باقی رقم بھی ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
یہ معاملہ 2022 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب انڈیا بلز ہاؤسنگ فنانس نے سبھاش چندرا کے خلاف ذاتی ضامن کی حیثیت سے دیوالیہ پن کی کارروائی شروع کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ اپریل 2024 میں این سی ایل ٹی نے انہیں ذاتی دیوالیہ پن کی کارروائی میں شامل کیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
