پونے میں 22 اگست کو خصوصی اجلاس سے قبل راہل گاندھی کا خواتین کے نام پیغام، ’جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کیا محسوس کرتی ہیں‘

راہل گاندھی نے ہندوستانی خواتین سے اپنے تجربات، جدوجہد، رکاوٹوں اور خوابوں کے بارے میں اپنی آواز میں اظہار کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے 22 اگست کو پونے میں خواتین کے خصوصی پروگرام میں شرکت کی دعوت دی

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہندوستانی خواتین سے ان کے تجربات، مسائل، جدوجہد اور خوابوں کے بارے میں براہِ راست اپنی آواز میں بات رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو سماج یا خاندان کی نظر سے نہیں بلکہ اپنی نظر سے یہ بتانا چاہیے کہ ایک ہندوستانی خاتون ہونا ان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔

راہل گاندھی نے ایک ویڈیو پیغام میں پونے میں 22 اگست کو ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے تحت ہونے والے خواتین کے خصوصی پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی تیاری کے دوران انہوں نے اپنی ٹیم میں شامل خواتین سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ ہندوستانی خواتین کی حیثیت سے کیا محسوس کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیم کی خواتین نے تقریباً 20 سے 40 منٹ تک اپنے تجربات، سماج کے رویے، اچھی اور بری باتوں اور اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ راہل گاندھی کے مطابق اس مشق سے انہیں خواتین کے احساسات اور ان کے تجربات کو سمجھنے میں مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ان کی ٹیم نے فیصلہ کیا کہ اس گفتگو کو وسیع کیا جائے اور پروگرام میں شرکت کرنے والی اور اسے دیکھنے والی خواتین سے بھی یہی سوال پوچھا جائے کہ وہ ایک ہندوستانی خاتون ہونے کے ناتے کیا محسوس کرتی ہیں۔


راہل گاندھی نے خواتین کے سامنے کئی سوالات بھی رکھے۔ انہوں نے پوچھا کہ سماج خواتین کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتا ہے، خوف کو ان کے خلاف کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، انہیں کس نوعیت کے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ تشدد انہیں کہاں کہاں برداشت کرنا پڑتا ہے اور ان حالات سے ملک کی شہری کی حیثیت سے ان کے احساسات کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی جانب سے ملنے والے جوابات نہایت شاندار اور گہرے تھے۔ انہوں نے بعض جوابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین نے ’تشویش‘ کے نام پر مسلسل کنٹرول کیے جانے، پیپر لیکس، سستے کالجوں کی عدم دستیابی اور تعلیم میں ناکامی کی صورت میں کم عمری کی شادی جیسے مسائل کا ذکر کیا۔

راہل گاندھی نے خواتین کے حوالے سے پدرشاہی، خوابوں کے قتل، اخلاقی پولیسنگ، اظہارِ خیال پر دھمکیوں اور انہیں نظرانداز کیے جانے جیسے مسائل بھی گنوائے۔ ایک جواب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کو ’ان سنی، سمجھوتہ کرنے پر مجبور، غلط سمجھی جانے والی، مذاق کا نشانہ بننے والی، زیادتی کا شکار اور حد سے زیادہ کام کرنے والی‘ ہونے کے باوجود ’دَیوی‘ کہا جاتا ہے۔

انہوں نے خواتین کی سلامتی، طبی سہولتوں اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کے حق سے متعلق مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ خوف، جدوجہد اور قربانی خواتین کی زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے اس رویے کی طرف بھی توجہ دلائی جس میں خواتین سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق لباس نہ پہنیں کیونکہ مرد اپنا کنٹرول کھو سکتے ہیں۔


راہل گاندھی نے کہا کہ ایسے موضوعات پر کھل کر گفتگو ضروری ہے تاکہ مل کر ہندوستانی خواتین کی زندگی کے حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے زیادہ سے زیادہ خواتین کو 22 اگست کو پونے میں ہونے والی گفتگو میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

اپنی ایکس پوسٹ میں راہل گاندھی نے خواتین سے پوچھا کہ ’ایک ہندوستانی خاتون ہونے کا کیا مطلب ہے؟‘ انہوں نے کہا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ خواتین کیا محسوس کرتی ہیں اور ان کی اپنی آواز کیا کہتی ہے۔ انہوں نے خواتین سے اپنے مسائل، رکاوٹیں، نقطۂ نظر، خواب اور کہانی شیئر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ جوابات کی امید کر رہے ہیں۔