کیرالہ انتخابات: راہل گاندھی کا بی جے پی اور سی پی آئی ایم پر گٹھ جوڑ کا الزام، یو ڈی ایف کو بتایا واحد متبادل
راہل گاندھی نے کیرالہ میں بی جے پی اور سی پی آئی (ایم) کے درمیان مفاہمت کا الزام عائد کرتے ہوئے یو ڈی ایف کو واحد متبادل قرار دیا۔ انہوں نے مودی حکومت کی معاشی و خارجہ پالیسیوں پر بھی تنقید کی

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے منگل کو کیرالہ کے ضلع کنور میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) پر سخت تنقید کی اور دونوں جماعتوں کے درمیان ’خفیہ مفاہمت‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی قیادت میں یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ ہی وہ واحد متبادل ہے جو کیرالہ کے سماجی و معاشی تانے بانے کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ موجودہ انتخاب نظریات کی لڑائی ہے، جہاں ایک طرف کانگریس ہے اور دوسری طرف بایاں محاذ، تاہم ان کے مطابق پہلی بار بی جے پی اور سی پی آئی (ایم) کے درمیان ایک طرح کی ہم آہنگی سامنے آئی ہے، جسے انہوں نے انتہا پسند دائیں اور بائیں بازو کے درمیان اشتراک قرار دیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بائیں محاذ کے کچھ سینئر رہنما، جیسے وی کنہی کرشنن اور ٹی کے گووندن، یو ڈی ایف کے ساتھ نظر آ رہے ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عوامی نمائندگی کرنے والے عناصر اب بائیں محاذ سے دور ہو رہے ہیں۔
انہوں نے دونوں جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ کارپوریٹ مفادات سے جڑی ہوئی پارٹیاں بن چکی ہیں اور زمینی مسائل سے کٹ گئی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ملک بھر میں مذہبی مسائل اٹھاتے ہیں لیکن کیرالہ میں سبرمالا سے متعلق تنازعات پر خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر وزیر اعظم خود کو ہندو مفادات کا محافظ کہتے ہیں تو پھر اس طرح کے معاملات پر اظہار خیال کیوں نہیں کرتے۔
راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ مرکزی ایجنسیاں ان کے خلاف کارروائی کرتی ہیں لیکن کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنرائی وجین کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کیرالہ میں سی پی آئی (ایم) کو اقتدار میں دیکھنا پسند کرتی ہے کیونکہ اسے کنٹرول کرنا آسان ہے۔
قومی سطح پر انہوں نے مودی حکومت کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ معاہدے ہندوستان کی زراعت، توانائی اور چھوٹے کاروباروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی درآمدات کسانوں کو متاثر کریں گی، خاص طور پر ربڑ، مکئی، سویا اور پھلوں کی کاشت کرنے والوں کو۔
کیرالہ کے لیے یو ڈی ایف کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خواتین کے لیے مفت بس سفر، طالبات کو ماہانہ ایک ہزار روپے وظیفہ، نوجوانوں کو پانچ لاکھ روپے تک بلا سود قرض اور بزرگوں کے لیے تین ہزار روپے ماہانہ پنشن جیسے اقدامات پیش کیے۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں ہر خاندان کے لیے پچیس لاکھ روپے تک کے علاج کی سہولت کا بھی اعلان کیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ یہ انتخاب تقسیم اور اتحاد، نفرت اور ہمدردی کے درمیان فیصلہ کن مرحلہ ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ یو ڈی ایف کو کامیاب بنا کر کیرالہ کے مستقبل کو مضبوط کریں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔