کیرالہ انتخابات: راہل گاندھی کا بی جے پی-ایل ڈی ایف گٹھ جوڑ کا الزام، یو ڈی ایف کی 5 ضمانتوں کا اعلان

راہل گاندھی نے کیرالہ میں بی جے پی اور ایل ڈی ایف پر ملی بھگت کا الزام لگاتے ہوئے یو ڈی ایف کی 5 ضمانتوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے بدعنوانی، روزگار، کسانوں اور معیشت کے مسائل کو اہم قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>کیرالہ میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کیرالہ کے ضلع اڈور میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ریاست کی سیاست میں بی جے پی اور لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کے درمیان گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ یہ اتحاد دراصل پردے کے پیچھے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس انتخاب میں حقیقی مقابلہ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) اور بی جے پی-ایل ڈی ایف کے غیر اعلانیہ اتحاد کے درمیان ہے۔

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بی جے پی ملک بھر میں صرف کانگریس سے نظریاتی اختلاف رکھتی ہے، جبکہ ایل ڈی ایف قومی سطح پر بی جے پی کے لیے کوئی چیلنج نہیں ہے۔ ان کے مطابق، اگر دہلی میں بی جے پی اور کیرالہ میں ایل ڈی ایف اقتدار میں رہیں تو ریاست مکمل طور پر بی جے پی کے اثر میں آ جاتی ہے۔

انہوں نے ایل ڈی ایف قیادت پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ کئی معاملات زیر سماعت ہونے کے باوجود ان لیڈروں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کی جانب سے کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پر کسی قسم کا دباؤ یا کارروائی دیکھنے کو نہیں ملتی، جو اس گٹھ جوڑ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ اکثر اپنے خطابات میں مذہب اور مندروں کا ذکر کرتے ہیں لیکن سبریمالا معاملے پر خاموش ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مندر سے سونے کی چوری جیسے سنگین معاملے پر وزیر اعظم نے کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا، کیونکہ اس سے ایل ڈی ایف کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔


راہل گاندھی نے کہا کہ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بی جے پی اور ایل ڈی ایف ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کے لیے مذہب صرف ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، جبکہ اصل مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے عالمی سطح پر بھی وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات اور صنعت کار گوتم اڈانی سے روابط کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ان مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کے باوجود وزیر اعظم نے جواب دینے سے گریز کیا۔

اپنی تقریر میں انہوں نے کیرالہ کے سماجی ڈھانچے اور ماحولیات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ترقی کے باوجود اپنی خوبصورتی اور ہم آہنگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں مختلف مذاہب اور برادریاں مل جل کر رہتی ہیں، جو ملک کے لیے ایک مثال ہے۔

راہل گاندھی نے روزگار اور صنعتی ترقی کے مسائل پر بھی زور دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کو فروغ نہیں دیا جائے گا تو نوجوانوں کو روزگار کیسے ملے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی معیشت چند بڑے صنعت کاروں کے ہاتھوں میں جا رہی ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔


انہوں نے کیرالہ میں ربڑ کے کسانوں اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایل ڈی ایف حکومت ان کی مدد کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ یو ڈی ایف نے ماضی میں ان کی حمایت کی تھی۔ راہل گاندھی نے یو ڈی ایف کی جانب سے پانچ اہم گارنٹیوں کا اعلان کیا۔ ان میں خواتین کے لیے مفت بس سفر، طالبات کے لیے ماہانہ مالی امداد، بزرگوں کے لیے پنشن میں اضافہ، ہر خاندان کے لیے صحت بیمہ اور نوجوانوں کے لیے بلاسود قرض شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ بزرگ شہریوں کے لیے ایک الگ وزارت قائم کی جائے گی اور ربڑ کے کسانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اگر یو ڈی ایف اقتدار میں آتی ہے تو ریاست میں روزگار، صنعت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو تبدیل کیا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔