رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر ؔ...یوم پیدا ئش پر خصوصی پیش کش

بقول خلیق احمد نظامی ’’ہندوستان نے سیاسی بصیرت، فہم و فراست، تدبیرومستقل مزاجی، ایثار اور قربانی کے بہت سے نمونے پیش کیے لیکن حق گوئی، بےباکی اور سرفروشی میں کوئی شخص محمد علی کے درجہ کو نہیں پہنچا‘‘

مولانا محمد علی جوہر
مولانا محمد علی جوہر
user

شاہد صدیقی علیگ

رئیس الاحرار مولانا محمد علی تخلص جوہرؔ کسی تعارف کے محتاج نہیں ، جن کا نام ایک بے باک ، حق گو ، بلند پایہ شاعر ،بے مثال صحافی، شعلہ بیاں مقرر ،ہندو مسلم اتحا د کے نقیب، تحریک خلافت کے مشعل برداراور جنگ آزادی کے عظیم رہنما کی وجہ سے صفحہ تاریخ ہند پر ہمیشہ درخشاں ستارے کی مانند چمکتا رہے گا۔

بقول خلیق احمد نظامی ’’ہندوستان نے سیاسی بصیرت ،فہم وفراست ،تدبیر اور مستقل مزاجی ،ایثار اور قربانی کے بہت سے نمونے پیش کیے ،لیکن حق گوئی،بے باکی اور سرفروشی میں کوئی شخص محمد علی کے درجہ کو نہیں پہنچا۔‘‘

مولانا محمد علی جوہر 10؍دسمبر 1878ء کو نجیب آباد ریاست رامپور میں پیدا ہوئے ،ان کے والد عبدالعلی کا سایہ ان کے سر سے دو سال کی عمر میں ہی اٹھ گیا تھا چنانچہ بچوں کی پرورش کی ساری ذمہ داری آباد ی بانو بیگم المعروف بی اماں کے کندھوں پر آگئی ، جو مذہبی خصوصیات اور حب الوطنی کا مرقع تھیں، جن کی چھاپ محمد علی کی شخصیت پرنمایاں طور پر نظر آتی ہے، مروجہ دستور کے مطابق ا بتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد میٹرک بریلی ہائی اسکول سے کیا۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بی اماں نے M.A.O کالج علی گڑھ اور 1898 ء میں لنکن کالج آکسفر ڈ یونیورسٹی بھیجا ۔ 1902ء میں وطن واپس لوٹے اور ریاست رامپور میں CEO کے عہدے پر مامور ہوئے، کچھ عرصہ ریاست بڑودہ میں بھی ملازمت کی ، مگرانہیں ملک وقوم کی خدمت اور جذبہ حریت نے بے کل رکھا ،چنانچہ ملازمت کوالوداعہ کہہ کر 1907ء میں ٹائمس آف انڈیا کے لیے مضامین تحریر کرکے صحافت کے میدان میں قدم رکھا ،چند برس بعد 13؍جنوری 1911ء کو کلکتہ سے انگریزی ہفتہ وار کامیریڈکا پہلا شمارہ شائع کیا۔ان کے اخبار کو سنجیدہ حلقوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا،مزید برآں نو آبادیاتی نظام کے اقتدار اعلیٰ کی اکثریت کامریڈ کی پرستار تھی۔خود لیڈی ہارڈنگ بھی کامریڈ کی ایسی دیوانی تھی کہ اس کے اگلے شمارے کے متعلق کامرڈ دفتر فون کر کے پوچھتی تھی اور اس کے مستقل خریدداروں میں شامل تھی۔ ایچ جی ویلز نے ان کے بارے میں لکھاتھاکہ ’مولانا محمد علی جوہر کے پاس میکا لے کا قلم ، برکلے کی زبان اور نپولین کا دل تھا۔‘


کامریڈ کا معیا ر اتنا بلند تھا کہ انگریز صحافی اور دانشور لغت کی مدد لیا کرتے تھے،مگر مولانا کے لیے صحافت ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک مشن تھاجس کا سب سے بڑا مقصد منجمد قوم کو جگانا اورہندو مسلم اتحا د کو پروان چڑھانا تھا ۔

مولانا محمد علی جوہر کا صدراتی خطبہ جسے بتاریخ11؍مئی1921ء کو بمقام الٰہ آباد پیش کیا ،جو درج ذیل ہے:

’’میں نے ہمیشہ اتحاد کی حمایت کی اور میرے اخبار کا نام ’کامریڈ اس کی دلالت کرنا ہے۔۔۔سوراج میرا مذہب ہے اور آپ سے بھی یہی درخواست کرتا ہوکہ اتفاق کرکے سوراج حاصل کرنے کی کوشش کیجئے ۔‘‘

انہوں نے جن نصب العین کے لیے کامریڈ شروع کیا تھا ،اسی سلسلے کے بڑھاتے ہوئے23؍فروری 1913 ء کو اردو میں ایک ہفت روز ہ ہمدرد کی بھی اشاعت کا آغاز کیا،ہمدرد کے مضامین نے صحافتی میدان میںتہلکہ مچا دیا۔جس نے ہندوستانیوں میں جذبہ الوطنی اور تحریک آزادی کے لیے نیا جوش وولولہ پیداکردیا،نیزبلا لحاظ قوم وملت میں اتحاد اور قومی یکجہتی فروغ دیا۔بجہت تحریک گلوخلاصی اور تاجران فرنگ کے خلاف نفرت کے شعلے بھڑکنے لگے۔ جوہر کی سرگرمیاں برطانوی حکومت کے وجود کے لیے خطرہ بن گئی،جس پر قدغن لگانے کے لیے پہلی مرتبہ 20؍مئی 1915ء کو مولانا اور شوکت علی کو مہر ولی میں نظر بند کیاگیا۔ان کی نظربند ی کے خلاف اخبارات کا شدید ردعمل سامنے آیا،پورے ملک میں غم وغصہ اور بے چینی کی کیفیت قائم ہوگئی۔غالباً ایک لاکھ کے قریب تار وائسرائے کو روانہ کیے گئے،مگر جابر حکومت کے کانوں پر جو نہیں رینگی بلکہ انہیں 22؍فروری1915ء کو چھندواڑہ روانہ کرکیا گیا،8؍جون 1919ء کو بیتول جیل منتقل کردیا ،جہاں سے وہ دسمبر کے اواخر میں رہا کیے گئے، لیکن ان کے قدموںمیں ذرا بھی لغزش نہ آئی ،بلکہ جیل سے چھوٹتے ہی سیدھے امرتسر پہنچے جہاں کانگریس ،مسلم لیگ اور خلافت کانفرنس کے سالانہ جلسہ منعقد ہورہے تھے۔علی برادرس اور مہاتماگاندھی نے 1857ء کے قومی اتحاد کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

مولانا نے خلافت کانفرنس کراچی میں مسلمانوں کے لیے برطانوی فوج میں ملازمت کرنا یا بھرتی ہوناقطعی حرام ہونے کا اعلان کردیا ،جس کی پاداش میںانہیں دوسری بار محروس کیا گیا،عدالت نے مولانا کو د و سال قید بامشقت کی سزا سناکر کراچی جیل بھیج دیا ،جیل کی ناقص غذ ا نے ان کی صحت پر گہرا اثر ڈالا ، وزن میں کمی کے ساتھ شوگر کی بیماری نے بھی جکڑ لیا،بعد ازیں کراچی سے بیجا پور عقوبت خانہ منتقل کردیاگیا۔طویل نظربندی سے علی برادران کو جسمانی اور مالی نقصانا ت بھی برداشت کرنے پڑے، ان کی والدہ کو جائداد فروخت کرنی پڑی اور ایک لاکھ روپے کے قرض کا بوجھ بھی اٹھانا پڑا، لیکن بی اماں اور ان کے غیور فرزندوں نے برطانوی حکومت کے آگے جھکنے یا کسی بھی طرح کی سودے بازی کرنا گوارہ نہ کیا۔

رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر ؔ...یوم پیدا ئش پر خصوصی پیش کش

مولانا محمد علی جوہر صحافت کے میدان سے سیاست کی کانٹو ں بھری راہوں پر چلے اور جلد ہی عوام کے نور نظر و محبوب قائد بن گئے ۔ مسلم لیگ ، خلافت تحریک اور انڈین نیشنل کانگریس سب جگہ اپنی انمٹ چھاپ چھوڑی۔ وہ 1923ء میںکانگریس کے چھٹے مسلم صدر منتخب ہوئے ،جو ان کی جذبہ حریت اور قائدانہ صلاحیتوں کا ثمر ہ تھا،وہ 1911ء تا 1930ء ملک کے سیاسی افق پر چھائے رہے ۔ مولانا جوہر آخری سانس تک ابنائے وطن میں بھائی چارے کے لیے کوشاں رہے۔انہوں نے 26؍دسمبر 1923 ء کو جنوبی ہند کے مقام کاکیناڑا میں کانگریس کے اجلاس میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں ہندوستان کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے قومی وملکی مفاد کی خاطر سازے گلے شکوے اور جھگڑوں کو پس ڈال کر آگے بڑھنا چاہیے۔لیکن شومیٔ قسمت ملک میں یکے بعد دیگر ے ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے مولانا نے کانگریس سے دوری اختیار کر لی۔

لندن میں نومبر1930ء کو پہلی گول میزکانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا ۔مولانا نے لارڈ ارون کی دعوت پر شدید بیمار ی کی حالت میں شرکت کی ا ور گرجتے ہوئے کہ:

’’آج جس مقصد کے لیے میں یہاں آیا ہوں وہ یہ ہے کہ میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں جائوں گا۔میں ایک غیر ملک میںجب تک وہ آزاد ہے ،مرنے کو ترجیح دوں گا اور آپ مجھے ہندوستان کی آزادی نہیں دیں گے تو پھر آپ کو یہاں مجھے قبر کے لیے جگہ دینی پڑے گی۔‘‘

ان کے دل اور ضمیر کی آواز کوقادر مطلق نے سن لیا اورمولانا محمد علی جوہر نے 4؍جنوری 1931ء کو لندن کے ہائیڈ ہوٹل میں آخری سانس لی۔جنہیں فلسطین کے مفتی اعظم امین الحسینی نے بیت المقدس میں دفن کرنے کی خواہش ظاہر کی۔مولانا کی جسد خاکی کو غلاف کعبہ کے ٹکڑ ے کے ساتھ کھدر کے کفن میں لپیٹ کر قبلہ اول کی پاک سرزمین میں سپر د خاک کردیا گیا۔

ہے رشک ایک خلق کو جوہرؔ کی موت پر

یہ اس کی موت ہے جسے پرور دگار دے


تاریخ شاہد ہے کہ مولا نا محمد علی جوہر نے اپنی زندگی کے بہترین لمحات ملک و قوم کی خاطر قید فرنگ میں گزارے ،حتیٰ کہ موہن داس کرم چند گاندھی کو مہاتما بنانے میں مولانا محمد علی جوہر اور ان کے مرشد مولانا عبدالباری فرنگی محلی کابھی کلیدی رول ہے،مگر ستم ظفریفی دیکھئے کہ آج وہ شخصیت ملک میں شجر ممنوعہ ہے۔ ستم بالائے ستم ان کی قربانیو ں تو کجاان کا نام بھی شاذو نادر ہی لیا جاتا ہے ۔شاید ایسے ہی حالات پیدا ہونے کا منظر ان کی دوررس نگاہوں نے دیکھ لیا ۔جسے جوہر کا کرب یا ان کی روح کا شکوہ کہنا بے جا نہ ہوگا۔مولانا جوہر کے دل محروم کی آواز ملاحظہ ہو کہ:

’’افسوس ! مسلمانوں نے میری قدر نہ کی ۔ہندوستان کے مسلمان زندہ پرست نہیں مردہ پرست ہیں۔جب میں مرجائوں گا تب یادکریں گے مگر میں بھی ان سے تنگ آگیا ہوںکہ ہندوستان میں مرنے ہی کا نہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔