پنجاب حکومت کو 15 دن میں مہنگائی بھتہ کا بقایا ادا کرنے کا حکم، ادائیگی تک بڑے اشتہارات پر بھی پابندی
پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے حکومت پنجاب کو سرکاری ملازمین اور پنشن یافتگان کا ڈی اے کا تمام بقایا 15 دن میں ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ادائیگی تک بڑے اشتہاری اخراجات پر بھی روک لگا دی ہے

چنڈی گڑھ: پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے پنجاب کی عام آدمی پارٹی (عآپ) حکومت کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے سرکاری ملازمین اور پنشن یافتگان کے مہنگائی بھتہ (ڈی اے) کا تمام بقایا 15 دن کے اندر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جب تک بقایا رقم کی مکمل ادائیگی نہیں ہو جاتی، ریاست پرنٹ، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا میں بڑے پیمانے پر اشتہاری مہمات جیسے غیر ضروری اخراجات نہیں کرے گی۔
کارگزار چیف جسٹس اشونی کمار مشرا اور جسٹس روہت کپور پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملازمین اور پنشن یافتگان کو ان کی ملازمت سے متعلق واجبات ادا نہ کرنے کے لیے مالی بحران کا بہانہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ ریاست ایسے اخراجات کو ترجیح نہیں دے سکتی جنہیں غیر ضروری قرار دیا جا سکتا ہو، جبکہ ملازمین کے قانونی واجبات ادا نہ کیے جائیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ تمام بقایا رقم دو ہفتوں کے اندر ادا کی جائے۔ اگر مقررہ مدت میں ادائیگی نہ ہوئی تو بقایا رقم پر سالانہ 6 فیصد سادہ سود بھی ادا کرنا ہوگا۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس ماہ کے اختتام تک عمل درآمد کی رپورٹ بھی پیش کرے۔
ریاستی حکومت کے وکیل منیندر جیت سنگھ بیدی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سنگل جج کی جانب سے بقایا ڈی اے کی ادائیگی کا حکم دائرۂ اختیار سے باہر تھا، تاہم ڈویژن بنچ نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔ ہائی کورٹ نے 22 جولائی کو پنجاب حکومت اور پنجاب اسٹیٹ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (پی ایس پی سی ایل) کی جانب سے دائر اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ یہ اپیلیں سنگل جج کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھیں جس میں 30 جون تک تمام بقایا ڈی اے ادا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
قبل ازیں 8 اپریل کو سنگل جج نے 18 فروری 2025 کی اس حکومتی لیکویڈیشن اسکیم کو من مانی اور آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت عمر کی بنیاد پر پنشن کے بقایا جات قسطوں میں ادا کیے جانے تھے۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ تمام ملازمین اور پنشن یافتگان کو اسی شرح سے ڈی اے کی تمام بقایا قسطیں ادا کی جائیں جس شرح سے پنجاب میں خدمات انجام دینے والے آل انڈیا سروسز کے افسران کو ادائیگی کی گئی ہے۔
ملازمین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے مرکزی حکومت کی طرز پر ڈی اے دینے کا اصولی فیصلہ تو کر لیا تھا، لیکن مالی مشکلات کا حوالہ دے کر اس کی ادائیگی مسلسل مؤخر کی جا رہی تھی۔ دوسری جانب ریاستی حکومت نے اپنے حلف نامے میں عدالت کو بتایا کہ نظرثانی شدہ تنخواہوں، پنشن، خاندانی پنشن، رخصتی کے نقد معاوضے اور مہنگائی بھتے کے بقایا جات کی ادائیگی پر مجموعی طور پر تقریباً 14191 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
