راکیش ٹکیت کی گرفتاری کے خلاف اتر پردیش میں وبال، لکھنؤ سے مرادآباد تک سڑک پر اترے کسان، تھانوں کا گھیراؤ

گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ٹکیت کو باعزت رہا نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ راکیش ٹکیت کی گرفتاری بالکل غلط ہے۔

راکیش ٹکیت، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

 اڑیشہ میں کسان لیڈر راکیش ٹکیت کی گرفتاری سے اتر پردیش میں وبال شروع ہوگیا ہے۔ گزشتہ روز جیسے ہی راکیش ٹکیت کی گرفتاری کی خبریں لوگوں تک پہنچیں، بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے کارکنوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور وہ سڑکوں پر نکل آئے۔ ریاست کی راجدھانی لکھنؤ میں کسانوں نے اس گرفتاری کے خلاف حضرت گنج تھانے کا گھیراؤ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

اتنا ہی نہیں پیر کو راکیش ٹکیت کی گرفتاری کے بعد پوری ریاست میں غصے کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ جیسے ہی ٹکیت کی گرفتاری کی خبر کی تصدیق ہوئی، کسان سڑکوں پر نکل آئے۔ لکھنؤ کے حضرت گنج پولیس اسٹیشن پر بڑی تعداد میں کسان جمع ہونے لگے اور زبردست احتجاج کیا۔ اس دوران تھانے کے اطراف ٹریفک جام لگ گیا جس کی وجہ سے لوگ کافی دیر تک پھنسے رہے۔


کسانوں نے حضرت گنج پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا اور راکیش ٹکیت کی رہائی کا پُرزور مطالبہ کیا۔ اس دھرنا اور مظاہرے کو دیکھتے ہوئے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔ راکیش ٹکیت کی گرفتاری کا اثر مغربی اتر پردیش کے مراد آباد میں بھی محسوس کیا گیا۔ ناراض کسانوں نے مراد آباد کے مختلف پولیس اسٹیشنوں پر احتجاج شروع کر دیا ہے اور ٹکیت کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر سے ہی بڑی تعداد میں کسان یہاں جمع ہونا شروع ہوگئے اور سڑک پر ہی بیٹھ گئے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ راکیش ٹکیت کسانوں کے مسائل کے سلسلے میں اڑیشہ میں جاری احتجاج کو مضبوط کرنے جا رہے تھے لیکن وہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کسانوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ احتجاج کرنے والے کسانوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ٹکیت کو باعزت رہا نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ راکیش ٹکیت کی گرفتاری بالکل غلط ہے، یہ کسانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے، جب تک انہیں رہا نہیں کیاجائے گا، یہ احتجاج جاری رہے گا۔


اسی طرح میرٹھ اور بجنور میں بھی بی کے یو کے کارکنوں نے جیل بھروے اور تھانہ گھیراؤ کا اعلان کیا ہے۔ موانہ میں کسانوں نے سی او آفس کا گھیراؤ کیا اور جم کر نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ٹکیت کو رہا نہیں کیا جاتا وہ یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ کسان لیڈر کی گرفتاری کے سبب شروع ہوئے دھرنے اور مظاہروں کے درمیان اترپردیش کی سیاست میں ایک بار پھر گھمسان مچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔