دہلی: تمام ضلع عدالتوں میں وکلاء کا مظاہرہ، آئی ایف ایس حکام نے کی پولس کی حمایت

تیس ہزاری کورٹ کے احاطے میں تشدد اور جھڑپ کے واقعہ کے خلاف دہلی کی تمام ضلع عدالتوں میں وکلاء کا مظاہرہ تیسرے دن بھی جاری رہا، اسی درمیان روہنی کورٹ کی عمارت پر چڑھ کر ایک وکیل نے خود کشی کی کوشش کی

تصویر سوشل میڈیا
i
user

یو این آئی

نئی دہلی: تیس ہزاری کورٹ کے احاطے میں تشدد اور جھڑپ کے واقعہ کے خلاف دہلی کی تمام ضلع عدالتوں میں وکلاء کا مظاہرہ بدھ یعنی تیسرے دن بھی جاری رہا اور اسی درمیان روہنی کورٹ کی عمارت پر چڑھ کر ایک وکیل نے خود کشی کی کوشش کی۔ دوسری طرف انڈین ایڈ منسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) اور انڈین پولس سروس (آئی پی ایس) کے بعد انڈین فارن سروس (آئی ایف ایس) کے حکام نے تیس ہزاری عدالت کے احاطے میں پولس اہلکار کے خلاف پرتشدد واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے پولس کی حمایت کی ہے۔

دہلی: تمام ضلع عدالتوں میں وکلاء کا مظاہرہ،  آئی ایف ایس حکام نے کی پولس کی حمایت

دارالحکومت کے تمام ضلع عدالتوں کے باہر وکلاء پولس دہلی کے خلاف نعرے بازی اور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وکلاء نے صبح روہنی کورٹ میں عوام کو جانے سے روک دیا اور جم کر نعرے بازی کی۔ مظاہر کرنے والے وکلاء انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ روہنی کورٹ کے علاوہ ساکیت اور پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں مظاہرہ جاری ہے۔ ساکیت کورٹ میں وکلاء نے کورٹ کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں اور کام کاج ٹھپ ہے۔ بارکونسل آف دہلی کے منع کرنے کے باوجود بھی وکلا ء کی ہڑتال جاری ہے۔


آئی ایف ایس عہدیداروں نے ٹوئٹ کرکے تیس ہزاری میں پولس کے خلاف تشدد کی مذمت کرتے ہوئے بدھ کو کہا کہ اس واقعہ میں شامل مجرم وکلاء کے خلاف کارروائی کر کے پولس اہلکاروں کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی ایس یونین کے ساتھیوں کی ان کومکمل حمایت ہے۔

آئی ایف ایس حکام نے کی پولس کی حمایت

آئی اے ایس یونین نے کل کہا تھا کہ ہم تیس ہزاری کورٹ میں پولس اہلکاروں کے خلاف کی گئی بزدلانہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ ہم بحران کے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی طرح آئی پی ایس ایسوسی ایشن نے ایک قرارداد منظور کر کے کہا تھا کہ مجرم وکلا کے لائسنس منسوخ کئے جائیں اور عدالتوں کو تمام فریقوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہئے۔ یہ تبصرہ دہلی پولس اہلکاروں کے کل احتجاج کے بعد آیا تھا۔


قابل غور ہے کہ دو نومبر کو تیس ہزاری عدالت کے کیمپس میں اور اس کے بعد پیر کو مختلف عدالتوں کے باہر پولس اہلکاروں کے ساتھ مارپیٹ کے واقعہ سے مشتعل پولس اہلکاروں نے کل دن بھر پولس ہیڈکوارٹر کے سامنے مظاہرہ کیا تھا۔ اعلی حکام سے ملنے والی یقین دہانی کے بعد پولس اہلکاروں نے دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دہلی پولس کی تاریخ میں پہلی بار پولس افسر اور ملازم دھرنے مظاہرے پر بیٹھے۔ اس مظاہرہ میں پولس اہلکار کی بیویاں اور بچے بھی شامل ہوئے تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔