مرکز کی غلط پالیسیوں کے خلاف عوام میں زبردست بےچینی

نسیم خان نے کہا کہ ہم چونکہ اپنے گھر میں بیٹھے ہیں اس لئے ہمیں کھل کر بات کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہونی چاہئے۔ کچھ کمیاں ہیں جو حکومت کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ریاستی حکومت میں کانگریس ایک اہم اتحادی ہے اور کانگریس نے شیوسینا جیسی پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ محض اس لئے کیا تھا کہ بڑے دشمن کو اقتدرا سے دور رکھا جاسکے۔ لیکن اگر اسے کانگریس کی مجبوری سمجھا جارہا ہے تو غلط ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لئے فکر مند ہیں۔ مسلمانوں کا ریزرویشن کا مطالبہ ہے لیکن حکومت میں اس پر بات تک نہیں کی جارہی ہے۔ یہ باتیں آج یہاں ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر وسابق وزیر نسیم خان نے کہی ہیں۔ وہ یہاں ریاستی کانگریس کے اقلیتی شعبہ کی جانب سے منعقدہ جائزہ میٹنگ سے خطاب کررہے تھے۔ واضح رہے کہ 12دسمبر کو مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف جئے پور میں ملکی سطح کے احتجاجی پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے، یہ میٹنگ اسی کی تیاریوں کی ضمن میں منعقد کی گئی تھی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نسیم خان نے مسلمانوں کے مسائل کے حوالے سے ریاستی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناڈالا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک مہاراشٹر کے مسلمانوں کے مسائل کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ مسائل سنگین ہیں اور انہیں حل کیا جانا چاہئے۔


انہوں نے کہا کہ ہم چونکہ اپنے گھر میں بیٹھے ہیں اس لئے ہمیں کھل کر بات کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہونی چاہئے۔ کچھ کمیاں ہیں جو حکومت کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں اگر حکومت کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے تو کانگریس کی مدد سے چل رہی ہے۔

اس پروگرام میں ماہی گیری وٹیکسٹائل کے وزیر اسلم شیخ بھی شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کامن مینمم پروگرام کے تحت تمام طبقات کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ میں مسلمانوں کے مسائل کو اپنے طور پر سمجھنے اور حل کرنے کے لئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام علاقوں کے نمائندہ مسلمانوں کی ایک میٹنگ بہت جلد طلب کرونگا اور مسائل کو تین زمرے میں تقسیم کرکے انہیں حل کرنے کی کوشش کرونگا۔ انہوں نے شرکاء سے اپیل بھی کی کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور وہ جلد خاص مسلمانوں کے مسئلے کے حل کے لئے ایک اوایس ڈی نامزد کریں گےتاکہ مسائل جلد ہوسکیں۔


ریاستی کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر ایم ایم شیخ نے اس موقع پر کہا کہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف پورے ملک میں زبردست بے چینی وبے اطمینانی ہے۔ یہ وقت اس بے چینی وبے اطمینانی کو دبانے کا نہیں بلکہ اسے ظاہر کرنے کا ہے اور اسی لئے اقلیتی شعبہ کی جانب سے 12دسمبرکو جئے پور میں ہونے والے احتجاج میں بڑی تعداد میں کارکنان شریک ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی صرف ایک ہی پالیسی ہے اور وہ ہے نفرت پھیلانے کی پالیسی۔ اس نفرت کا سب سے بڑا نقصان اقلیتوں کو اٹھانا پڑتا ہے اور اسی لئے یہ اقلیتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ملک کے لوگوں کو مرکزی حکومت کی اس منافرت کی پالیسی سے ہوشیار کریں۔

تلک بھون دادر میں ہونے والی اس جائزہ میٹنگ میں کانگریس اقلیتی شععبہ مہاراشٹر کے نگراں محمد احمد خان کے علاوہ اقلیتی شعبہ کے ریاستی نائب صدر ابراہیم بھائی جان، ممبئی اقلیتی شعبہ کے صدر ببو خان ومختلف اضلاع سے ہوئی ضلعی صدور موجود تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔