ادے بھانو چِب کی گرفتاری کے خلاف آج یوتھ کانگریس دفتر پر ہوگا احتجاج، دیویندر یادو کی کارکنان سے اہم اپیل

ادے بھانو چِب کی گرفتاری کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے دہلی پردیش کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے رائسینا روڈ پر بڑے احتجاج کی اپیل کی اور جنتر منتر کی اجازت منسوخی کو آواز دبانے کی کوشش قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چِب کی گرفتاری کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادے بھانو چِب کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے امریکہ کے ساتھ کیے گئے اس تجارتی معاہدے پر سوال اٹھایا جس کے بارے میں کانگریس کا الزام ہے کہ اس میں کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا۔

دیویندر یادو کے مطابق راہل گاندھی نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا، جبکہ یوتھ کانگریس کے کارکنان نے فیصلہ کیا کہ اے آئی سمٹ کے دوران بھی اس مسئلے کو اجاگر کیا جائے کیونکہ یہ موضوع بین الاقوامی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادے بھانو چِب کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا اور بعد میں گرفتار کر لیا گیا، جو جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد پارٹی کی جانب سے قانونی مدد فراہم کی گئی اور متعدد سینئر لیڈران موقع پر پہنچے۔ ایک وفد نے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات بھی کی جس میں اجے ماکن، ہارون یوسف اور دیگر رہنما شامل تھے۔


دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی میں اپوزیشن کے لیے پر امن احتجاج کی جگہیں محدود کی جا رہی ہیں اور جنتر منتر پر 26 فروری کو مجوزہ احتجاج کی اجازت پہلے دی گئی لیکن بعد میں منسوخ کر دی گئی۔

ان کے مطابق یہ طرز عمل جمہوری روایت کے منافی ہے کیونکہ جنتر منتر ایک ایسی جگہ رہی ہے جہاں مختلف جماعتیں برسوں سے احتجاج کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجازت کی منسوخی سے کارکنان کے درمیان بے چینی پیدا ہوئی ہے، تاہم پارٹی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

دیویندر یادو نے دہلی کانگریس اور ملک بھر کے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ آج رائسینا روڈ پر انڈین یوتھ کانگریس کے دفتر پہنچیں اور ادے بھانو چِب کی حمایت میں آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی یوتھ کانگریس صدر کے ساتھ کھڑی ہے اور گرفتاری کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔