اوقاف کا تحفظ پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری، شفاف انتظام اور قانونی تیاری ناگزیر: مولانا محمود مدنی
جمعیۃ علماء ہند کی آل انڈیا متولیان کانفرنس میں مولانا محمود اسعد مدنی نے وقف املاک کے تحفظ، دستاویزات کے ڈیجیٹلائزیشن، مالی شفافیت اور قانونی جدوجہد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا

نئی دہلی: وقف ایکٹ 2025 کے خلاف جاری سماجی اور قانونی جدوجہد کے درمیان جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام ایوانِ غالب، نئی دہلی میں آل انڈیا متولیان کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے پانچ سو سے زائد متولیان، دینی و سماجی رہنما، ماہرین قانون اور عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔ جمعیۃ کے پریس بیان کے مطابق، کانفرنس میں وقف املاک کے تحفظ، شفاف انتظام، قانونی تیاری اور عوامی بیداری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔
کانفرنس کی صدارت سید شاہ حافظ محمد علی الحسینی، سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ گلبرگہ شریف نے کی، جبکہ جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کلماتِ استقبالیہ پیش کیے۔ نظامت کے فرائض مولانا مفتی حسان قاسمی نے انجام دیے۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ وقف محض جائیداد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت اور اسلامی تہذیب کا ایک اہم ستون ہے، جس کی حفاظت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کے تحفظ کو صرف متولیان کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اوقاف کو بیرونی چیلنجوں کے ساتھ ساتھ داخلی کمزوریوں، ناقص انتظام، دستاویزات کے فقدان اور غفلت جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تناظر میں انصاف اور آئینی اصولوں کو مقدم رکھا جائے۔ ان کے مطابق انصاف کسی طبقے پر احسان نہیں بلکہ ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہے اور قانون کی عزت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب وہ سب کے لیے یکساں ہو۔
انہوں نے متولیان پر زور دیا کہ وہ وقف املاک کا مکمل ریکارڈ محفوظ اور ڈیجیٹلائز کریں، مالی شفافیت کو یقینی بنائیں، باقاعدہ آڈٹ کا نظام قائم کریں اور ناجائز قبضوں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کریں۔ مولانا مدنی نے اداروں میں موروثیت کے رجحان سے اجتناب کی بھی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اداروں کی روح اور ان پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اوقاف کے تحفظ کے لیے جز وقتی نہیں بلکہ کل وقتی اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔
پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال انصاری نے کہا کہ وقف املاک کے رجسٹریشن اور قانونی معاملات میں سب سے زیادہ مشکلات متولیان کو درپیش ہیں، اس لیے انہیں اپنی ذمہ داریوں کا زیادہ احساس کرنا ہوگا۔ انہوں نے عدلیہ کے کردار پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان تنازعات میں عدالت کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ اوقاف کے تحفظ کا بوجھ صرف متولیان یا حکومت پر نہیں ڈالا جا سکتا، بلکہ پوری ملت کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خاں نے کہا کہ وقف املاک کو عوامی مفاد اور فلاحی مقاصد کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
صدرِ اجلاس سید شاہ محمد علی الحسینی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران وقف کے تحفظ سے متعلق تحریکوں کے نتیجے میں عوام میں بیداری پیدا ہوئی ہے، جسے مزید منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اہلِ ثروت سے نئے اوقاف قائم کرنے اور تعلیم، صحت اور رفاہِ عامہ کے شعبوں میں وقف کے مؤثر استعمال کی اپیل کی۔
ساوتھ ایشین مائناریٹیز لائر ایسوسی ایشن (ساملہ) کے صدر ایڈوکیٹ ناصر عزیز نے ہر علاقے میں وقف تحفظ کمیٹیاں اور قانونی سیل قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جبکہ شاہ سید یاداللہ حسینی نے وقف املاک کے تحفظ کے لیے ایک فعال اور مؤثر کمیٹی کے قیام پر زور دیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ ہریندر ملک نے وقف املاک کے بعض معاملات میں بدانتظامی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ وقف کی آمدنی غریبوں اور ضرورت مندوں کی فلاح کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔
رکن پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی نے وقف کے تحفظ کے لیے مشترکہ اور منظم جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ مذہبی اداروں اور ان کی املاک کے تحفظ کے لیے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔
کانفرنس میں مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے قانونی تیاری، شفاف انتظام، ڈیجیٹل دستاویزات، عوامی بیداری اور اجتماعی تعاون ناگزیر ہیں۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اوقاف کے خلاف کسی بھی سازش کو متحد اور منظم کوششوں کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
