جب ذاکر حسین کی والدہ کا انتقال ہوا تو گاؤں والوں نے رام لیلا کی تقریب روک دی!

بجنور کے موہڈا گاؤں میں 12 اکتوبر کو پیش آنے والے واقعہ نے پورے گاؤں کی سوچ بدل دی۔ موہڈا گاؤں، جسے اب فرقہ وارانہ گنگا-جمنی ثقافت کا مظہر کہا جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

 بجنور کا ایک گاؤں ہے جہاں گنگا-جمنی ثقافت کی ایک مثال رام لیلا کے دوران پیش کی گئی۔ ہندو برادری کے ارکان نے گاؤں میں ایک معمر خاتون کی موت پر رام لیلا کی تقریب کو اچانک روک کر اور اس خاتون کے گھر والوں کے غم میں شریک ہو کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مثال قائم کی۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق یہ واقعہ بجنور کے موہڈا گاؤں میں پیش آیا،جو 12 اکتوبر کو ہوا تھا۔ موہڈا گاؤں، جسے اب فرقہ وارانہ گنگا جمنی ثقافت کا مظہر کہا جاتا ہے، اس گاؤں کی ایک 85 سالہ رہائشی غفورن تھی، جو علاج کے دوران فوت ہو گئی۔دراصل گاؤں میں رام لیلا تقریب  چل رہی تھی۔ جب اماں کی موت کی وجہ سے کمیٹی کے ذریعہ رام لیلا تقریب  روک دی گئی۔ ہندو برادری اور رام لیلا کمیٹی کے ارکان نے رام لیلا پروگرام چھوڑ دیا اور متوفی اماں کے اہل خانہ سے ملاقات کی، ان کے غم میں شریک ہوئے۔


گاؤں کے پردھان رشیپال سنگھ نے کہا، "مرنے والی خاتون ہماری بوا یعنی پھوپی جیسی تھیں۔ جیسے ہی ان کے پاس  فون آیا کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے، میں نے فوری طور پر کمیٹی کو بلایا اور رام لیلا کو ملتوی کر دیا۔ اس کی وجہ ہمارے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنا ہے۔ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کا بھی مکمل تعاون حاصل ہے۔"انہوں نے مزید اپیل کی، "میں کہنا چاہتا ہوں کہ سب کو پیار سے رہنا چاہیے، جس طرح ہم ہولی پر ان سے ملنے جاتے تھے اور وہ عید پر آتے ہیں ۔‘‘ہندو مسلم معاملے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ صرف ووٹ کی سیاست ہے، وہ اس پر یقین نہیں رکھتے۔

متوفی خاتون کے بیٹے ذاکر حسین نے بتایا کہ "جس دن میری والدہ کا انتقال ہوا، ہم اسپتال سے واپس آئے شام کا وقت تھا، گاؤں میں رام لیلا کا پہلا دن تھا، اور موسیقی چل رہی تھی، میری والدہ غفورن کی موت کی خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی، جیسے ہی گاؤں کے پردھان اور کمیٹی کو اس کا علم ہوا، انہوں نے متفقہ طور پر ہماری والدہ کی موت کی وجہ سے رام لیلا تقریب روک دی۔‘‘ انہوں نے یہ مثال قائم کرنے پر کمیٹی اور گاؤں کے پردھان کا شکریہ ادا کیا۔