تمل ناڈو میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی کی تیاریاں، حکومت ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعہ رکھے گی نظر

حکومت ایک جامع ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم نافذ کرنے جا رہی ہے، جس کا مقصد غیر قانونی کان کنی پر لگام لگانا، پورے نظام میں شفافیت اور آنے والے برسوں میں کان کنی سے ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کان کنی۔ تصویر/ آئی اے این ایس</p></div>
i

چنئی: تمل ناڈو حکومت ریاست کے ’محکمۂ قدرتی وسائل‘ میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومت ایک جامع ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم نافذ کرنے جا رہی ہے، جس کا مقصد غیر قانونی کان کنی پر لگام لگانا، پورے نظام میں شفافیت اور آنے والے برسوں میں کان کنی سے ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔ اس منصوبے کا جائزہ وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی صدارت میں اس ہفتے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، حکومت کا ہدف ریاست میں ہونے والی تمام معدنیات کی کان کنی کو ایک مربوط آن لائن مانیٹرنگ پلیٹ فارم کے دائرے میں لانا ہے۔ اجلاس میں چیف سکریٹری، مالیاتی سکریٹری اور کئی اہم محکموں کے سکریٹری بھی شامل ہوئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مالی سال 2025-26  میں محکمۂ قدرتی وسائل نے کان کنی لیز فیس، رائلٹی، معدنی اراضی ٹیکس، گرین فنڈ میں تعاون اور ضلع معدنی فاؤنڈیشن ٹرسٹ کو ادائیگیوں کے ذریعے تقریباً 4500  کروڑ روپے کا ریونیو حاصل کرنا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی سخت نگرانی اور قواعد پر بہتر عمل درآمد کے ذریعے پہلے مرحلے میں یہ سالانہ آمدنی بڑھ کر تقریباً 6500  کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ جبکہ آئندہ چند برسوں میں اسے 9000  کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال لیز یافتہ اور بغیر لیز والے کئی علاقوں سے نکالے جانے والے ’رف اسٹون‘ اور دیگر معدنیات کا بڑا حصہ معدنی اراضی ٹیکس اور رائلٹی کے دائرے سے باہر رہ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے حکومت کو ہر سال کافی مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت اب ریاست میں ’ڈیجیٹل ویٹ برج سسٹم‘ نافذ کرے گی۔ اسے ایک مرکزی آن لائن پلیٹ فارم سے جوڑا جائے گا، جس کے ذریعے کانوں سے نکلنے والے ہر معدنی لوڈنگ کی ڈیجیٹل نگرانی کی جا سکے گی۔


حکام نے تسلیم کیا کہ ابتدائی مرحلے میں سخت ضوابط کی وجہ سے کان کنی کی سرگرمیاں کچھ سست پڑ سکتی ہیں، لیکن اس کے ذریعہ مستقبل میں قواعد و ضوابط پر بہتر عمل در آمد ہو سکے گا اور ریونیو میں مسلسل اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب غیر قانونی کان کنی کے خلاف حکومت کی سختی پہلے ہی نظر آنے لگی ہے۔ گزشتہ ماہ تینکاسی، کنیا کماری، ویرودھونگر اور مدورئی اضلاع کی 67  پتھر کی کانوں کا آپریشن روک دیا گیا تھا۔ جانچ میں معلوم ہوا کہ کئی کانوں میں منظور شدہ حد سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی کان کنی کی جا رہی تھی۔ حکام نے مجموعی طور پر 431  کانوں کا معائنہ کیا، جن میں سے 155 کانوں میں ضوابط کی خلاف ورزی پائی گئی۔ کئی کان مالکان کے خلاف جرمانے کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ دیگر معاملات میں کارروائی جاری ہے۔

اب تک تمل ناڈو مائنر منرل کنسیشن رولز، 1959 کے تحت مجموعی طور پر 78  کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا جا چکا ہے۔ حالانکہ بعض کان مالکان نے ان جرمانوں کے خلاف اپیل بھی دائر کی ہے، جن پر فی الحال غور کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25  میں چونا پتھر، لیگنائٹ، مارل، گریفائٹ، میگنیسائٹ اور جوہری معدنیات کی کان کنی کی لیز سے ریاست کو 433  کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی تھی۔

ڈریں اثنا حال ہی میں ریاستی حکومت نے تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والے ایگریگیٹ کو پڑوسی ریاستوں میں بھیجنے پر 3 ماہ کی پابندی عائد کی ہے۔ اس کے بعد ایسے معدنیات کی نقل و حمل میں تقریباً 15  فیصد کمی درج کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان سبھی اقدامات کا مقصد غیر قانونی کان کنی پر قابو پانا، سرکاری آمدنی کی چوری روکنا اور کان کنی کے شعبے کو مکمل طور پر شفاف بنانا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔