حیدرآباد: مساجد میں اسلام کی سربلندی اور عالم اسلام کے لئے دعائیں

کئی مقامات پر درس قرآن کی محافل کا بھی اہتمام کرتے ہوئے نزول قرآن کی عظمت، صاحب قرآن ﷺ کی عظمت کے ساتھ ساتھ مقاصد رمضان اور پیغام رمضان کی تشریح کی گئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدرآباد: رمضان المبارک کے پہلے رحمت کے دہے کا اختتام ہوگیا۔ شہر کی تاریخی مکہ مسجد کے علاوہ چوک کی مسجد،دیگر مساجد کے علاوہ فنکشن ہالس اور دیگر مقامات پر تین پاروں کی تلاوت ہوئی۔ فرزندان توحید نے خشوع وخضوع کے ساتھ اس پہلے دہے کو مکمل کیا۔

مکہ مسجد میں حافظ وقاری مولانا محمد رضوان قریشی نے نماز تراویح کی امامت کی جبکہ شاہی مسجد باغ عامہ میں مولاناحافظ محمد بن عبدالرحمن الحمومی نے امامت کی۔اس پہلے دہے کی تکمیل کے ساتھ ہی مساجد میں رقت انگیز دعائیں بھی کی گئیں جس میں اشکبار ہوکر مصلیوں نے اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگیں۔ جامع مسجد چوک میں حافظ مرتضی علی صوفی نے تین پاروں کا ختم قرآن کیا۔

اس موقع پر اسلام کی سربلندی،عالم اسلام کے مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ بالخصوص عراق، شام، فلسطین، مانمار کے مظلوم مسلمانوں کی حفاظت، مسلمانوں کے عروج، ترقی، استعماری، طاغوتی طاقتوں کی سازشوں، ریشہ دوانیوں اور ناپاک منصوبوں سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے، ایک مرتبہ پھر پوری دنیا پر مسلمانوں کے شاندار ماضی کی طرح اسلامی نظام کے قیام، اسلامی شعائر، اسلامی طرز زندگی اور خالق ارض وسماں کی رضا، نصرت الہی کے ذریعہ دنیا میں مسلمانوں کو نئے انقلاب کا نقیب بنانے کے لئے طویل دعائیں مانگی گئیں۔

اس ماہ مقدس کی مناسبت سے امت مسلمہ سے انتشار، نفاق کے خاتمہ، اتحاد پیدا کرنے کے لئے بھی دعائیں کی گئیں۔ علما نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم متحد ہوجائیں اور اللہ تعالی کو راضی کرلیں تو نصرت الہی یقیناً ہم کو مل سکتی ہے اور ایک مرتبہ پھر پورے عالم میں ہمارا بول بالا ہوسکے گا۔

اس موقع پر صحت، سلامی، درازی عمر، ملک میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل اور امتیاز کے خاتمہ کے لئے بھی دعا کی گئی۔ کئی مقامات پر درس قرآن کی محافل کا بھی اہتمام کرتے ہوئے نزول قرآن کی عظمت، صاحب قرآن ﷺ کی عظمت کے ساتھ ساتھ مقاصد رمضان اور پیغام رمضان کی تشریح کی گئی۔ ساتھ ہی خصوصی وظائف، دعاوں اور تہجد کا سلسلہ مساجد میں پہلے دہے کے اختتام کے باوجود بھی جاری ہے۔ شہر کے شادی خانوں اور دیگر اہم تجارتی مراکز کے مقامات پر شبینہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اہم تجارتی مرکز چارمینار، لاڈ بازار کے اکثر تاجر تراویح میں تین پاروں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اگلے دہوں میں ان کو تجارت کرنی ہوتی ہے۔ یہ تاجرین عشا کی نماز کے بعد عموماً دکانات بند کر دیتے ہیں اور نماز تراویح کے بعد ہی دکانات کھولتے ہیں کیونکہ عموماً پہلے دہے میں لوگ شاپنگ کو کم آتے ہیں۔

اس دہے کے اختتام کے بعد شاپنگ میں بتدریج اضافہ ہوجاتا ہے۔ شہر حیدرآباد میں ماہ رمضان میں دکانات اور تجارتی اداروں کو رات بھر کھلی رکھنے کی اجازت ہے جس کے پیش نظر کھانے پینے کی اشیا کی فروخت بھی زوروں پر ہو رہی ہے۔ لوگ، دوسہ، اڈلی، حلیم، پتھر کا گوشت، گھاوا، قیمہ روٹی، انڈہ بن کی دکانات پر تراویح کے بعد نظر آرہے ہیں۔ کئی فنکشن ہالس میں خواتین کے لئے بھی تراویج کا اہتمام کیا گیا۔ رمضان کریم کی مناسبت سے حکومت کی جانب سے بھی وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی جی ایچ ایم سی حدود میں مساجد کے پاس پینے کے پانی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ حیدرآباد میں رات کے اوقات جاری رہنے والے بازاروں کے پاس سیکورٹی کے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔