زور آور لیڈر سورج بھان سنگھ جیل سے رِہا، 30 سال پرانے کیس میں عدالت کے فیصلہ سے لی راحت کی سانس

ایم پی-ایم ایل اے کورٹ کے خصوصی جج برجیش کمار سنگھ کی عدالت نے سورج بھان سنگھ کی رِہائی کا فیصلہ سنایا، جس کے بعد وہ جیل سے باہر آ گئے۔

<div class="paragraphs"><p>سورج بھان سنگھ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بیگوسرائے کے سابق رکن پارلیمنٹ سورج بھان سنگھ کو آج جیل سے رِہائی مل گئی۔ ایم پی-ایم ایل اے کورٹ کے خصوصی جج برجیش کمار سنگھ کی عدالت نے ثبوتوں کی عدم موجودگی میں ان کی رِہائی کا فیصلہ سنایا۔ سورج بھان سنگھ 30 سال پرانے ایک قتل معاملہ میں جیل میں بند تھے، جس سے متعلق سماعت کے دوران عدالت نے انھیں بری قرار دیا۔

سینئر ایڈووکیٹ محمد منصور عالم نے سورج بھان سنگھ کا موقف عدالت کے سامنے رکھا۔ الزام تھا کہ 29 جولائی 1996 کو تقریباً 11.30 بجے دن میں برونی تھانہ کے بیہٹ گاؤں کے رہنے والے ٹن ٹن سنگھ کے بیٹے رنجیت کی سیتارام انجینئر کے ڈیرا پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ قتل میں دلیپ سنگھ، وپن سنگھ، اجیت سنگھ سمیت کچھ دیگر لوگوں کے بھی نام شامل تھے۔


موصولہ اطلاع کے مطابق حادثہ کی ایف آئی آر مہلوک کے والد کی طرف سے برونی تھانہ میں درج کرائی گئی تھی۔ اس دوران ایف آئی آر میں سابق رکن پارلیمنٹ سورج بھان سنگھ کا نام نہیں تھا، لیکن جانچ ہوئی تو اس دوران کیس ڈائری میں نام شامل کیا گیا تھا۔ جانکاری کے مطابق اس معاملہ میں فریق استغاثہ کی طرف سے 7 گواہ پانو دیوی، رامیشور بھگت، لوسیا دیوی، نول کشور سنگھ، پھولینا سنگھ، گنیش سنگھ اور ڈاکٹر پریم چند کمار کی گواہی کرائی گئی۔ ان میں سے کسی نے بھی سورج بھان کے اس حادثہ میں ملوث ہونے کی حمایت نہیں کی۔ بعد ازاں ثبوتوں کی کمی کے سبب سابق رکن پارلیمنٹ کو جیل سے رِہا کرنے کا فیصلہ عدالت نے صادر کر دیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔