بھرت تیواری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 5 گولیاں لگنے کا انکشاف، انصاف کمیٹی نے جانچ پر اٹھائے سوال
بھرت تیواری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 5 گولیاں لگنے کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے سامنے آنے کے بعد انصاف کمیٹی نے جانچ پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دو اضافی گولیاں کن حالات میں لگیں، اس کی وضاحت کی جائے

بہار کے بھوجپور میں زیر بحث بھرت تیواری معاملے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھرت تیواری کے جسم میں مجموعی طور پر پانچ گولیاں لگی تھیں، جس کے بعد انصاف کا مطالبہ کرنے والی کمیٹی نے جانچ کے طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔
موصولہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پہلی گولی بائیں ران کے اوپری اگلے حصے میں لگی، دوسری گولی بائیں ران کے درمیانی اندرونی حصے میں پیوست ہوئی، تیسری گولی دائیں ران کے درمیانی اندرونی حصے میں لگی، چوتھی گولی دائیں ران کے بیرونی حصے کے اندرونی رخ پر لگی، جبکہ پانچویں گولی بائیں پیر کے درمیانی پچھلے حصے میں پائی گئی۔
رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد بھرت تیواری انصاف کمیٹی کے رابطہ کار پنکج ترپاٹھی نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ان دعوؤں کو تقویت دیتی ہے جو مقامی لوگ اور عینی شاہدین ابتدا سے کرتے آ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر رپورٹ میں پانچ گولیاں لگنے کی تصدیق ہوئی ہے تو یہ جانچ کا نہایت اہم پہلو ہے، جس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
پنکج ترپاٹھی نے کہا کہ عوام کی بات درست ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر رپورٹ میں تین گولیاں ایک مقام پر اور دو گولیاں دوسرے مقام پر لگنے کی بات سامنے آئی ہے تو حقیقت کا سامنے آنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقامی لوگوں اور عینی شاہدین نے ہمیشہ یہی کہا کہ انہوں نے صرف تین گولیوں کی آواز سنی تھی، جبکہ پانچ گولیوں کی آواز کسی نے نہیں سنی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جسم میں واقعی پانچ گولیاں موجود تھیں تو یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ باقی دو گولیاں کن حالات میں لگیں۔ ان کے مطابق اس معاملے میں تمام پہلوؤں کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ ضروری ہے تاکہ واقعے سے متعلق تمام شکوک و شبہات دور ہو سکیں اور حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔
واضح رہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس معاملے پر بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ جانچ سے متعلق ہر سوال کا جواب عوام کے سامنے آنا چاہیے تاکہ حقیقت پوری طرح واضح ہو سکے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
