راگھو چڈھا سمیت 7 اراکینِ راجیہ سبھا کے بی جے پی میں جانے پر عام آدمی پارٹی کا سخت ردعمل

راگھو چڈھا سمیت 7 اراکین کے بی جے پی میں شامل ہونے پر عام آدمی پارٹی نے سخت ردعمل دیا۔ اروند کیجریوال اور بھگونت مان نے اسے پنجاب کے ساتھ دھوکہ قرار دیا، جبکہ اپوزیشن نے بھی شدید تنقید کی

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا سمیت سات اراکین کے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے کے اعلان نے پنجاب کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس پیش رفت پر عام آدمی پارٹی کی قیادت نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نہ صرف سیاسی سازش قرار دیا بلکہ پنجاب کے عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ بھی بتایا ہے۔

عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ بی جے پی نے ایک بار پھر پنجاب کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم جمہوری اقدار کے خلاف ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ مخالف جماعتوں کو کمزور کرنے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بھی اس معاملے پر شدید ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی پنجاب میں کوئی مضبوط عوامی بنیاد نہیں ہے، اس لیے وہ منتخب نمائندوں کو توڑ کر اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے ان اراکین کو پنجاب کا نمائندہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے سخت الفاظ میں کہا کہ ایسے لوگ عوام کے اعتماد کے حقدار نہیں ہیں اور انہیں بی جے پی میں بھی کوئی خاص مقام نہیں ملے گا۔

عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے اس پورے معاملے کو ’آپریشن لوٹس‘ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام پارٹی چھوڑنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی ایجنسیوں کے دباؤ کے ذریعے منتخب نمائندوں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو جمہوریت کے لیے خطرناک رجحان ہے۔


پارٹی کے نیشنل میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا نے بھی اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں کردار اور اصول سب سے اہم ہوتے ہیں۔ انہوں نے تاریخی شخصیات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اصل رہنما وہ ہوتے ہیں جو مشکل حالات میں بھی اپنے نظریات پر قائم رہتے ہیں، نہ کہ دباؤ میں آ کر سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کچھ اراکین نے دباؤ یا ذاتی مفاد کی وجہ سے یہ فیصلہ لیا ہے۔

دوسری جانب کانگریس کے رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیا ہے۔ پنجاب کانگریس کے صدر امریندر سنگھ راجہ وارنگ نے کہا کہ ایسی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پارٹی میں واضح نظریہ اور مضبوط بنیاد نہ ہو۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو مزید منتخب نمائندے بھی پارٹی چھوڑ سکتے ہیں۔

کانگریس کے رہنما ادت راج نے یہاں تک کہا کہ یہ پیش رفت پنجاب حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس طرح کے سیاسی حالات برقرار رہے تو حکومت کی بقا پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوری نظام کو کمزور کیا جا رہا ہے اور سرکاری ایجنسیوں کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور وقت آنے پر اس کا جواب دے گی۔


واضح رہے کہ راگھو چڈھا کے ساتھ جن دیگر اراکین کے بی جے پی میں شامل ہونے کی بات سامنے آئی ہے ان میں ہربھجن سنگھ، راجندر گپتا، وکرم ساہنی اور سواتی مالیوال شامل ہیں۔ اس بڑے سیاسی انحراف نے نہ صرف عام آدمی پارٹی بلکہ پنجاب کی مجموعی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں آنے والے دنوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔