’سیاسی اختلافات تشدد کا جواز نہیں بن سکتے‘، ترنمول رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی کی ہراسانی پر کھڑگے کا سخت رد عمل
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’مغربی بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام اپوزیشن لیڈران کی سیکورٹی یقینی بنائے اور تشدد آمیز حملوں کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کریں۔‘‘

ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور ممتا بنرجی کے بھتیجہ ابھشیک بنرجی پر سونارپور میں ہوئے حملہ کے بعد سخت سیاسی رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران لگاتار مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکز کی مودی حکومت کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی ابھشیک بنرجی پر حملہ معاملہ میں اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ’’سیاسی اختلافات کبھی بھی تشدد کا جواز نہیں بن سکتے ہیں۔‘‘
ملکارجن کھڑگے نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری کردہ پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ریاست میں انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے لیے سونارپور جانے والے رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی پر ہونے والا حملہ حیرت انگیز ہے۔ میں اس حملے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ایک اہم اپوزیشن لیڈر کو مناسب پولیس تحفظ فراہم نہ کیے جانے کی دانستہ کوتاہی بی جے پی کی انتقامی اور ہراسانی پر مبنی سیاست کو بے نقاب کرتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’مغربی بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام اپوزیشن لیڈران کی سیکورٹی یقینی بنائے اور ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کرے۔ سیاسی اختلافات کبھی بھی کسی قسم کے تشدد کا جواز نہیں بن سکتے۔‘‘
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بھی ابھشیک بنرجی پر ہوئے حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انھوں نے ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی پر سونارپور میں ہوا حملہ بے حد قابل مذمت ہے۔ ایک رکن پارلیمنٹ پر حملہ صرف ایک شخص پر حملہ نہیں، یہ اس عوام پر حملہ ہے جس نے انھیں منتخب کیا، اور اس جمہوریت پر حملہ ہے جو ہم سب کی مشترکہ وراثت ہے۔‘‘ بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’یہ بی جے پی کی بدلے والی سیاست کی گھناؤنی شکل ہے۔ سیاسی نااتفاقی کبھی تشدد کا سبب نہیں بن سکتے۔ مرکزی اور مغربی بنگال حکومت، دونوں ہی قصورواروں پر فوری کارروائی کرے اور یہ یقینی بنائے کہ کوئی بھی عوامی نمائندہ، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو، اپنی سیکورٹی کو لے کر فکر مند نہ رہے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی متاثرہ ترنمول رکن پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ابھشیک جی، میری ہمدردیاں آپ کے اور آپ کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ آپ جلد صحت یاب ہوں۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
