دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر اہلکاروں کا احتجاج، نیہا بورا نے پوچھا- ’کیا پولیس اپنے ہی اہلکاروں پر ایف آئی آر درج کرے گی؟‘

شاہدرہ تھانے میں وکلا اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے بعد دو افسران کے تبادلے کے خلاف دہلی پولیس اہلکاروں نے ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کیا۔ نیہا بورا نے دفعہ 163 کے نفاذ پر طنز کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

نئی دہلی: دہلی پولیس کے اندرونی اختلافات پیر کو اس وقت کھل کر سامنے آگئے جب دو سینئر پولیس افسران کے تبادلے کے خلاف بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کیا۔ شاہدرہ تھانے میں پولیس اور وکلا کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد افسران کے تبادلے سے ناراض اہلکاروں نے مطالبہ کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) منسوی وششٹھ اور شاہدرہ تھانے کے سابق ایس ایچ او ارون کمار کو ان کے پرانے عہدوں پر بحال کیا جائے۔

احتجاج کے دوران پولیس اہلکار ہاتھوں میں پلے کارڈ اور پوسٹر لیے نظر آئے۔ اس معاملے پر اے آئی ایس اے کی صدر نیہا بورا نے دہلی پولیس پر طنز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس اپنے ہی ناراض اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے گی؟

دہلی پولیس اور وکلا کے درمیان تنازع 23 اکتوبر کو شاہدرہ تھانے میں ہاتھا پائی کے واقعے کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس دوران ایک وکیل زخمی ہوگیا تھا۔ واقعے کے بعد وکلا نے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اے سی پی منسوی وششٹھ اور انسپکٹر ارون کمار کا تبادلہ کردیا گیا۔ ان تبادلوں کے بعد وکلا نے اپنی ہڑتال واپس لے لی تھی۔


تاہم پولیس اہلکاروں نے ان تبادلوں کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے احتجاج شروع کردیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ وکلا کی جانب سے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی اور دھمکیاں دینے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو بھی اپنے تحفظ اور عزت کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے۔

اے سی پی منسوی وششٹھ نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ افسران سے درخواست کی تھی کہ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے مناسب پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ درخواست بھی دی گئی ہے۔ انہیں امید ہے کہ سینئر افسران ان کی بات سنیں گے اور معاملے کا حل نکالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو جس طرح کی غنڈہ گردی اور تھانوں کے اندر حفاظتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ اگر تھانے ہی محفوظ نہیں ہیں تو کوئی دوسری جگہ بھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔ دریں اثنا دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار نے احتجاج کرنے والے اہلکاروں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی تمام جائز شکایات کے ازالے کے لیے فوری اور مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔

اس معاملے پر نیہا بورا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ دہلی پولیس ہیڈکوارٹر نئی دہلی کے اس علاقے میں واقع ہے جہاں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا دہلی پولیس اپنے ہی محکمے سے ناراض پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے گی؟ انہوں نے اسے نظام کے کمزور ہونے کی علامت بھی قرار دیا۔


کانگریس لیڈر سرینواس بی وی نے بھی اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا دہلی پولیس کے اندر ہی بغاوت ہوچکی ہے؟ دوسری جانب احتجاج کے دوران ایک اے سی پی نے پولیس اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ خود ہی ناانصافی برداشت کرتے رہیں گے تو دوسروں کے ساتھ انصاف کیسے کرسکیں گے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔