زہریلا کھانا! سپول میں ’شراد‘ کی دعوت کھا کر 150 سے زیادہ لوگ ہوئے بیمار، دال میں ملی مردہ چھپکلی
بتایا گیا ہے کہ جدیا تھانہ علاقہ کے تحت مان گنج مغربی پنچایت کے دتوا وارڈ نمبر 10 میں گزشتہ دیر رات منعقد دعوت میں دال میں مردہ چھپکلی ملنے کے بعد 150 سے زیادہ لوگوں کی طبیعت خراب ہو گئی۔

بہار کے سپول میں فوڈ پوائزننگ کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ’شرادھ کا کھانا‘ کھانے کے بعد 150 سے زیادہ لوگوں کی طبیعت بگڑ گئی۔ تمام بیمار لوگوں کو فوری طور پر تروینی گنج واقع سب ڈویژنل اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کا علاج چل رہا ہے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں کھانے کے لیے تیار کی گئی دال میں مردہ چھپکلی ملنے کی بات سامنے آئی ہے۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے۔
یہ واقعہ ضلع کے تروینی گنج سب ڈویژن علاقے میں منعقد ایک شرادھ کی دعوت کے دوران پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ جدیا تھانہ علاقہ کے تحت مان گنج مغربی پنچایت کے دتوا وارڈ نمبر 10 میں اتوار کو دیر رات منعقد دعوت میں دال میں مردہ چھپکلی ملنے کے بعد 150 سے زیادہ لوگوں کی طبیعت خراب ہو گئی۔ تمام بیمار لوگوں کو آناً فاناً تروینی گنج سب ڈویژن اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کا علاج چل رہا ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ تمام مریضوں کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق دتوا وارڈ 10 کے رہنے والے چُھٹکے لال یادو کی اہلیہ کے شرادھ کرم کے موقع پر کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں تقریباً 500 لوگوں نے شرکت کی تھی۔ گاؤں والوں کے مطابق کھانے کے دوران دال میں ایک مردہ چھپکلی پائی گئی جس سے شرکت کرنے والوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تھوڑی دیر بعد بچوں سمیت کئی لوگوں نے پیٹ میں درد، قے، سر درد اور بے چینی کی شکایت شروع کر دی، جبکہ کچھ لوگوں کو چکر آنے لگے اور انہیں گھبراہٹ محسوس ہونے لگی۔
واقعہ کے بعد اہل خانہ اور گاؤں والوں نے تمام متاثرہ افراد کو سب ڈویژنل اسپتال پہنچایا۔ اطلاع ملنے پر پولیس بھی صورتحال کا جائزہ لینے اسپتال پہنچ گئی۔ تروینی گنج کے بی ڈی او ابھینو بھارتی نے بھی اسپتال کا دورہ کر کے مریضوں کا حال معلوم کیا۔ اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اندردیو یادو نے بتایا کہ دال میں ایک مردہ چھپکلی ملنے سے لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ اسپتال میں 150 سے زائد مریض، جن میں سے بیشتر بچے ہیں، زیر علاج ہیں۔ تمام مریض خطرے سے باہر ہیں۔ انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ افراد کو مناسب علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
