ہمالیہ کی فضا میں بھی زہر: منسیاری کی ہوا میں کینسر پیدا کرنے والے ’بینزین‘ کی تصدیق، نئی سائنسی تحقیق میں اہم انکشاف
محققین کے مطابق بینزین کو بین الاقوامی سطح پر سرطان کا باعث بننے والا کیمیکل مانا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ طویل مدتی رابطہ خون سے متعلق کینسر اور دیگر سنگین صحت کے مسائل کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
.jpg?rect=0%2C0%2C3600%2C2025&auto=format%2Ccompress&fmt=webp)
ہمالیہ کو طویل عرصے سے صاف اور زندگی بخش ہوا کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے لیکن اب تصور چیلنج کے دور سے گزر رہا ہے۔ اتراکھنڈ کے سرحدی پہاڑی علاقے منسیاری میں کی گئی ایک نئی سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی اب ان اونچائی والے علاقوں تک بھی پہنچ رہی ہے جنہیں اب تک نسبتاً آلودگی سے پاک تصور کیا جاتا تھا۔
تحقیق میں ہوا میں بینزین سمیت کئی نقصان دہ کیمیکلز کی موجودگی درج کی گئی جو طویل مدتی صحت اور ماحولیاتی خدشات کا باعث بن سکتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے خود مختار ادارے آریہ بھٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنس (اے آئی آئی ای ایس) کے سائنسدانوں کی طرف سے کی گئی اس تحقیق کے نتائج ممتاز تحقیقی جریدے انوائرمنٹ سائنس اینڈ پولیوشن ریسرچ میں شائع کیے گئے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آلودگی کی سطح فی الحال میٹروپولیٹن علاقوں کی نسبت کافی کم ہے اور صحت کے لیے فوری خطرات محدود ہیں لیکن یہ صورت حال مستقبل کے لیے ایک اہم انتباہ ہے۔ مطالعہ کے تحت سال 23-2022 کے دوران منسیاری علاقے کی ہوا کے معیار کی پورے سال نگرانی کی گئی۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ منسیاری میں آلودگی کی سطح موسم کے لحاظ سے بدلتی ہے۔ موسم سرما اور مون سون کے دوران ہوا نسبتاً صاف رہتی ہے، جب کہ موسم بہار اور خزاں کے دوران موسم میں نقصان دہ گیسوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی منسیاری جیسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں میں توسیع، گاڑیوں کی آمدورفت میں اضافہ، تعمیراتی کام اور توانائی کے لیے ایل پی جی اور ڈیزل کے استعمال کی وجہ سے ہے، جس سے ہوا کے معیار پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
تحقیق میں بینزین اور زائلین جیسے خوشبودار ہائیڈرو کاربن کی نمایاں موجودگی درج کی گئی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ کیمیکلز فضا میں کیمیائی رد عمل کو تیز کرتے ہیں جس کے نتیجے میں سطحی اوزون اور سیکنڈری ایروسول جیسی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ اوزون اور ذرات کی بڑھتی ہوئی سطح نہ صرف فضائی آلودگی کی علامت ہے بلکہ صحت کے لیے بھی خطرہ ہے۔
مطالعہ میں بینزین کی موجودگی پر سب سے زیادہ تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بینزین کو بین الاقوامی سطح پر سرطان کا باعث بننے والا کیمیکل مانا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ طویل مدتی رابطہ خون سے متعلق کینسر اور دیگر سنگین صحت کے مسائل کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ حالانکہ محققین نے واضح کیا ہے کہ فی الحال منسیاری میں درج کی گئی سطحیں دہلی اور ہلدوانی جیسے بڑے شہروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں اور اس سے صحت کا کوئی فوری بحران نہیں ہے۔ اس کے باوجود مسلسل بڑھتی ہوئی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو مستقبل میں خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
