مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: وزیر اعظم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ہندوستانیوں کی سلامتی اولین ترجیح، ایس جے شنکر کا بیان

ایس جے شنکر نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ وزیر اعظم مودی مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور حکومت ہندوستانیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور انہیں واپس لانے کے اقدامات کر رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کے روز راجیہ سبھا میں بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیزی سے بدلتے حالات پر مسلسل اور قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری رہتے اور کام کرتے ہیں، اس لیے حکومت کے لیے سب سے بڑی ترجیح ان کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

راجیہ سبھا میں بیان دیتے ہوئے ایس جے شنکر نے کہا کہ خطے میں جاری تنازعہ نے صورتحال کو نہایت حساس بنا دیا ہے۔ اسی پس منظر میں حکومت نے وہاں موجود ہندوستانیوں کو محفوظ طریقے سے وطن واپس لانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے تاکہ ہندوستانی شہریوں کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ایوان میں کارروائی شروع ہوتے ہی قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ہندوستانی شہریوں کی ہلاکت کے معاملے کو اٹھانے کی کوشش کی، جس پر ایوان میں شور شرابہ شروع ہو گیا۔ اس دوران چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے کھڑگے سے مداخلت ختم کرنے کی درخواست کی اور وزیر خارجہ کو صورتحال پر بیان دینے کے لیے مدعو کیا۔

شور شرابے کے درمیان وزیر خارجہ نے ایوان کو بتایا کہ موجودہ کشیدگی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور اسلامی حکومت کے کئی سینئر رہنما ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سے خطے میں حالات مزید بگڑ گئے ہیں اور کشیدگی مختلف ممالک تک پھیل گئی ہے۔


انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 28 فروری کو ایک باضابطہ بیان جاری کر کے اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی تھی اور تمام فریقوں سے تحمل سے کام لینے، کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے اور شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دینے کی اپیل کی تھی۔

ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کا واضح موقف ہے کہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کے تمام ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔

وزیر خارجہ کے مطابق یکم مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں ایران میں ہونے والے فضائی حملوں اور اس کے بعد خلیجی ممالک میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں خطے میں مقیم ہندوستانی برادری کی سلامتی، معاشی سرگرمیوں اور سفری مسائل پر بھی گفتگو کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ بھی بتایا گیا کہ خطے میں سفر کرنے والے ہندوستانی مسافروں اور وہاں منعقد ہونے والے امتحانات میں شرکت کرنے والے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ایس جے شنکر نے کہا کہ حکومت مسلسل حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کشیدگی جلد ختم ہوگی اور خطے میں معمول کی زندگی بحال ہو سکے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔