دانڈی مارچ کی برسی: وزیر اعظم مودی اور ملکارجن کھڑگے نے گاندھی جی اور آزادی کے مجاہدین کو یاد کیا
دانڈی مارچ کی برسی پر وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مہاتما گاندھی اور آزادی کے مجاہدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ کانگریس نے اس موقع پر تاریخی تصاویر اور ویڈیو بھی شیئر کی

نئی دہلی: 1930 میں شروع ہونے والے تاریخی دانڈی مارچ کی برسی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مہاتما گاندھی اور آزادی کی جدوجہد میں شامل مجاہدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے اپنے پیغامات جاری کیے اور اس تاریخی تحریک کی اہمیت کو یاد کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 1930 میں آج ہی کے دن دانڈی مارچ کا آغاز ہوا تھا اور اس میں شامل تمام شخصیات کو وہ احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر ایک سنسکرت سبھاشتم بھی شیئر کیا۔ اس سنسکرت عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ ہمیشہ سچائی کی ہی جیت ہوتی ہے اور باطل کا انجام شکست ہے، اس لیے انسان کو سچائی کے راستے پر چلنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر عظیم انسانوں نے اعلیٰ مقاصد حاصل کیے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی اس موقع پر ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 1930 میں مہاتما گاندھی کی قیادت میں شروع ہونے والا تاریخی دانڈی مارچ آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم سنگ میل تھا۔ انہوں نے کہا کہ نمک ستیہ گرہ کے ذریعے سول نافرمانی کی ملک گیر تحریک نے ہندوستانی قومی کانگریس کے مکمل سوراج کے عہد کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کھڑگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ باپو کے بتائے ہوئے اصول آج بھی اتنے ہی اہم اور حوصلہ افزا ہیں جتنے اس وقت تھے۔ انہوں نے اس موقع پر آزادی کے تمام مجاہدین کے غیر معمولی کردار اور ان کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شامل تھی جس میں دانڈی مارچ سے متعلق تاریخی تصاویر اور مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ویڈیو میں مہاتما گاندھی کو مردوں، عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد کے ساتھ لاٹھی کے سہارے مارچ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
دریں اثنا، کانگریس پارٹی نے اپنی پوسٹ میں اس تاریخی تحریک کو آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دانڈی مارچ نے برطانوی حکومت کے نمک قانون کے خلاف عوامی مزاحمت کو مضبوط کیا اور آزادی کی تحریک کو نئی توانائی فراہم کی۔
خیال رہے کہ دانڈی نمک ستیہ گرہ کو ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا ایک اہم باب مانا جاتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے 1930 میں سابرمتی آشرم سے اس تاریخی مارچ کا آغاز کیا تھا۔ یہ مارچ برطانوی حکومت کے نمک قانون کے خلاف احتجاج کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ گاندھی جی اور ان کے ساتھیوں نے طویل سفر طے کرتے ہوئے گجرات کے ساحلی علاقے دانڈی تک مارچ کیا اور وہاں پہنچ کر نمک قانون کی علامتی خلاف ورزی کی۔ اس اقدام نے پورے ملک میں سول نافرمانی کی تحریک کو نئی طاقت دی اور آزادی کی جدوجہد کو عوامی سطح پر مزید وسیع کر دیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔