پی ایم مودی نے ملک کے مستقبل سے سمجھوتہ کر لیا، یہ بات 140 کروڑ ہندوستانی سمجھ چکے ہیں: راہل گاندھی
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے تمام مسائل کی وجہ وزیر اعظم نریندر مودی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو اور اپنے مالی ڈھانچے کو بچانے کے لیے بے چین ہیں۔

ہندوستان کی موجودہ معاشی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی معیشت شدید بحران سے گزر رہی ہے اور اس کے لیے براہِ راست مودی حکومت ذمہ دار ہے۔
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ روپے کی قدر گر کر 95 سے 100 کی طرف بڑھ رہی ہے، شیئر بازار مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، معیشت کمزور ہو رہی ہے، روزگار کے مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں، آمدنی میں کمی آ رہی ہے اور لوگوں کی بچت تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گھریلو استعمال کی اشیاء، خصوصاً گیس سلنڈر کی دستیابی بھی متاثر ہو رہی ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان مسائل کو پیش کرنے کے بعد راہل گاندھی نے سوال پوچھا کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب وہ خود دیتے ہوئے لکھتے ہیں ’’پی ایم = کمپرومائزڈ‘‘۔ یعنی وزیر اعظم نریندر مودی ’کمپرومائزڈ‘ ہیں، اس لیے ملک کی حالت خراب ہو رہی ہے۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے تمام مسائل کی وجہ وزیر اعظم نریندر مودی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو اور اپنے مالی ڈھانچے کو بچانے کے لیے بے چین ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق ’’140 کروڑ ہندوستانی یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ وزیر اعظم نے ملک کے مستقبل سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔‘‘ راہل گاندھی پہلے بھی ملک میں بے روزگاری، روپے کی قدر گرنے اور خستہ حال معیشت کے لیے پی ایم مودی کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان راہل گاندھی خاص طور سے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔