’ای 20‘ کے نام پر 31.2 فیصد ملاوٹ والا پٹرول فروخت ہو رہا، کرناٹک حکومت نے مرکز پر عائد کیا سنگین الزام

کرناٹک حکومت نے تیل کمپنیوں کے پٹرول میں مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول ملا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ حال ہی میں ریاستی حکومت نے الگ الگ پٹرول پمپ سے نمونے لے کر پٹرول کا ٹیسٹ کرایا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>ای 20 پٹرول، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

’ای 20 پٹرول‘ سے متعلق تنازعہ ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ مرکز کی مودی حکومت اور تیل کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ پٹرول میں صرف 20 فیصد ایتھنول ملایا جا رہا ہے، لیکن کرناٹک حکومت نے تیل کمپنیوں کے پٹرول میں مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول ملائے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حال ہی میں کرناٹک حکومت نے مختلف پٹرول پمپوں سے نمونے لے کر پٹرول کی جانچ کرائی تھی، جس کا ریزلٹ سامنے آ چکا ہے اور اسی کو سامنے رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے یہ الزام عائد کیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ نمونوں کی جانچ کے بعد کسی بھی پٹرول پمپ سے لیے گئے نمونے میں 20 فیصد ایتھنول والا پٹرول نہیں پایا گیا۔ یعنی تمام پٹرول پمپوں پر فروخت ہونے والے پٹرول میں ایتھنول کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق انڈین آئل (آئی او سی ایل)، ہندوستان پٹرولیم (ایچ پی سی ایل)، بھارت پٹرولیم (بی پی سی ایل)، نائرا اور شیل جیسی کمپنیوں کے پٹرول پمپوں سے مجموعی طور پر 63 نمونے لیے گئے تھے۔


ان نمونوں کی جانچ میں 7 اضلاع کے پٹرول میں ایتھنول کی مقدار 20 فیصد سے زیادہ پائی گئی ہے۔ بعض معاملات میں یہ ملاوٹ 31.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ کرناٹک حکومت نے کہا ہے کہ وہ ان جانچ رپورٹس کو مرکزی حکومت کے پاس بھیجے گی۔ ریاستی حکومت نے بتایا کہ تیل کمپنیوں سے پٹرول میں ایتھنول کی صحیح مقدار کے تعلق سے واضح جواب نہ ملنے کے بعد یہ جانچ کرائی گئی۔

کرناٹک حکومت نے بتایا کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں تیل کمپنیوں کے پٹرول پمپوں سے مجموعی طور پر 63 نمونے جمع کیے گئے تھے۔ ابتدا میں ان نمونوں کو متعلقہ تیل کمپنیوں کی لیبارٹریوں میں بھیجا گیا۔ حکومت نے ان کمپنیوں سے سوال کیا تھا کہ ان نمونوں میں ایتھنول کی مقدار کتنی ہے۔ کرناٹک حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی تیل کمپنی نے اس سلسلے میں ایتھنول کی مقدار کے تعلق سے واضح جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے کچھ نمونوں کو پرائیویٹ لیباریٹریز میں بھیجا۔ 7 اضلاع سے لیے گئے نمونوں کی جانچ میں ایتھنول کی مقدار 20 فیصد سے زیادہ پائی گئی ہے۔


ریاستی حکومت کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق آئی او سی ایل کے پٹرول میں 31.2 فیصد سے زیادہ ایتھنول پایا گیا ہے۔ وہیں ایچ پی سی ایل کے پٹرول میں 30.5 فیصد، بی پی سی ایل کے پٹرول میں 26.5 فیصد، نائرا کے پٹرول میں 26.1 فیصد اور شیل کے پٹرول میں 25.5 فیصد تک ایتھنول پایا گیا ہے۔ پٹرول میں ایتھنول کی زیادہ مقدار ملانے سے گاڑیوں کو کئی طرح کے نقصانات ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف گاڑیوں کا مائلیج کم ہوگا بلکہ دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات بھی بڑھیں گے۔ کرناٹک حکومت کا دعویٰ ہے کہ اگر ایتھنول کی ملاوٹ کی وجہ سے گاڑیوں کا مائلیج 10 فیصد تک کم ہوتا ہے تو ہر سال تقریباً 62 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ حکومت نے گاڑیوں کی سروسنگ اور دیکھ بھال سے متعلق اخراجات کی وجہ سے تقریباً 39 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ کرناٹک حکومت کے وزیر رضوان ارشد نے مرکزی حکومت سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکز کو ایک ’اسپائلج فنڈ‘ قائم کرنا چاہیے، جس کے ذریعے مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول ملے پٹرول کا استعمال کرنے والے گاڑی مالکان کو معاوضہ یا رقم واپس کی جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔