وندے ماترم مکمل طور پر لازمی قرار دیے جانے کے خلاف عرضی داخل، سپریم کورٹ نے مرکز سے طلب کیا جواب
میگسسے ایوارڈ یافتہ اور کنڑ موسیقار ٹی ایم کرشنا نے قومی نغمہ وندے ماترم کو مکمل گانے کے ضابطے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب جو بند شامل کیے گئے ہیں، وہ مذہبی نوعیت کے ہیں۔

نے ‘وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دیے جانے کے خلاف
سپریم کورٹ نے وندے ماترم کے تمام 6 بند کی گائیکی کو لازمی قرار دینے والے قانون کو چیلنج کرنے والی عرضی پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ گلوکار ٹی ایم کرشنا نے دائر کیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل نے کہا کہ قانون سازی نکسل وادیوں کے مطابق نہیں ہونی چاہیے۔
سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر ایس مرلی دھر نے سالیسٹر جنرل کے اس تبصرے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بات واپس لینی چاہیے۔ یہ کارروائی براہ راست نشر ہو رہی ہے، اور یہ بیان غیر ضروری تھا۔ کچھ ضابطے اور وقار برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم قانون کے عہدیداروں سے ایسی توقع نہیں کرتے۔ اس دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور سینئر ایڈوکیٹ مرلی دھر کے درمیان تلخ بحث ہوئی۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس جے باگچی نے کہا کہ ہم نے اس پر توجہ نہیں دی ہے۔ اس کے بعد سالیسٹر جنرل نے کہا کہ میں نے جو کہا ہے اسے دوبارہ کہہ سکتا ہوں۔ قانون کے مطابق ہی چلنا ہوتا ہے۔ میں نے جو کہا اس پر مجھے کوئی افسوس نہیں۔ اس پر سینئر وکیل مرلی دھر نے کہا کہ وہ دوبارہ وہی بات دہرا رہے ہیں۔ اب مجھے سخت احتجاج درج کرانا ہوگا۔ اس کے بعد سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے کہا کہ سوچنے کا مطلب نکسل وادی ہونا نہیں ہے۔ جسٹس جوائے مالیا باگچی نے مداخلت کرتے ہوئے آئینی اداروں کے کردار پر زور دیا اور کہا کہ آئین کے تحت ایسے شخص کو بھی مساوی حقوق حاصل ہیں، جس پر دہشت گرد ہونے کا الزام ہو۔
واضح رہے کہ میگسسے ایوارڈ یافتہ اور کنڑ موسیقار ٹی ایم کرشنا نے قومی نغمہ وندے ماترم کو مکمل گانے کے ضابطے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب جو بند شامل کیے گئے ہیں، وہ مذہبی نوعیت کے ہیں۔ قومی نغمے کی توہین پر سزا کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ قومی نغمہ کیا ہو، یہ طے کرنا عدالت کا کام نہیں ہے۔ جہاں تک سزا کی گنجائش کا تعلق ہے، ہم اس پر سماعت کریں گے۔ عدالت نے عرضی کی کاپی سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو سونپتے ہوئے اپنا موقف پیش کرنے کو کہا ہے۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 12 اکتوبر کو ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
