’عوام تنگ آ چکی ہے‘، بہار اور مدھیہ پردیش کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست پر پرینکا گاندھی کا سخت تبصرہ

میڈیا اہلکار کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’یہ صاف ہے کہ عوام بی جے پی سے تھک چکی ہے اور تنگ آ چکی ہے۔ اب لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>پرینکا گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i

بہار کی بانکی پور اور مدھیہ پردیش کی دَتیا اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی برسراقتدار پارٹی کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نتائج سے صاف ہے کہ لوگ اب بی جے پی سے تنگ آ چکے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ بانکی پور اسمبلی سیٹ پر جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے بی جے پی صدر نتن نوین کی خالی سیٹ پر قبضہ کر لیا، وہیں مدھیہ پردیش کی دَتیا اسمبلی سیٹ پر بی جے پی کو کانگریس کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

آج جب پارلیمنٹ احاطہ میں صحافیوں نے ضمنی انتخابات کے نتائج پر پرینکا گاندھی سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ’’یہ صاف ہے کہ عوام بی جے پی سے تھک چکی ہے اور تنگ آ چکی ہے۔ اب لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ تو صرف شروعات ہے۔‘‘ دَتیا اسمبلی سیٹ پر کانگریس امیدوار کو ملی فتح کے سبب کانگریس لیڈر میں ایک جوش بھی نظر آیا۔ انھوں نے اپنے بیان سے واضح کیا کہ جو نتائج سامنے آئے ہیں، وہ عوام کی سوچ کو ظاہر کرنے والے ہیں۔


واضح رہے کہ بہار کی بانکی پور اسمبلی سیٹ پہلے بی جے پی قومی صدر نتن نوین کے پاس تھی۔ رکن اسمبلی عہدہ سے ان کے استعفیٰ دے کر قومی سطح پر نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اس سیٹ پر ضمنی انتخاب کرایا گیا۔ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب میں جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے 64,151 ووٹ حاصل کر شاندار جیت درج کی۔ بی جے پی کے نیرج کمار کو 44,827 اور آر جے ڈی کی ریکھا کماری کو 14,273 ووٹ ملے۔

دَتیا اسمبلی ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار گھنشیام سنگھ نے بی جے پی کے آشوتوش تیواری کو 6,016 ووٹوں سے شکست دے کر سیٹ پر قبضہ کر لیا۔ کانگریس کو 66,757 (42.39 فیصد) ووٹ ملے، جبکہ بی جے پی 60,741 (38.57 فیصد) ووٹوں تک محدود رہ گئی۔ سب سے بڑا سیاسی پیغام یہ رہا کہ 2023 کے اسمبلی انتخاب کے مقابلے میں بی جے پی کے ووٹوں میں سب سے زیادہ کمی درج ہوئی، جبکہ آزاد سماج پارٹی نے تیسرے محاذ کے طور پر مضبوط موجودگی درج کرائی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔