پیلٹ گن معاملہ: ’کارروائی کی اجازت کس سطح پر دی گئی تھی؟‘ امت شاہ کی خاموشی پر کپل سبل نے اٹھایا سوال
کپل سبل نے کہا کہ ’’اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت کسی ایس ڈی ایم نے دی تھی تو پھر یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ کیا وزیر داخلہ نے کبھی کہا کہ ایس ڈی ایم نے غلط فیصلہ لیا تھا۔‘‘

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پاس ہونے اور طلبہ مظاہرے سے متعلق معاملوں پر راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے مرکزی حکومت اور وزیر داخلہ امت شاہ پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جگہ پیلٹ گن یا اس طرح کی کارروائی کی گئی ہے تو اس کے لیے کسی نہ کسی سطح پر اجازت ضرور دی گئی ہوگی۔ کپل سبل نے کہا کہ اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت کسی ایس ڈی ایم نے دی تھی تو پھر یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ کیا وزیر داخلہ نے کبھی کہا کہ ایس ڈی ایم نے غلط فیصلہ لیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کارروائی غلط تھی تو مرکزی وزیر داخلہ اب تک خاموش کیوں ہیں۔
پارلیمنٹ احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے کہا کہ ’’اگر وزیر داخلہ کو لگتا ہے کہ کسی افسر نے غلط کیا ہے تو انہیں کھل کر یہ کہنا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ حکومت کے علم اور رضامندی سے ہوا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’شروع میں بی جے پی کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ پیلٹ گن کا استعمال نہیں ہوا، لیکن بعد میں جب یہ ثابت ہو گیا کہ پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا، تب حکومت کو یہ بات تسلیم کرنی پڑی۔ ایسے میں یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وزیر داخلہ اپنا موقف واضح کریں اور بتائیں کہ اس معاملے میں ذمہ داری کس کی ہے؟‘‘
راجیہ سبھا رکن کپل سبل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’حکومت کو اس پورے معاملے میں واضح جواب دینا چاہیے، کیونکہ یہ صرف انتظامی کارروائی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سے طلبہ اور عام لوگوں کے حقوق کا بھی سوال جڑا ہوا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ملک کی عوام یہ جاننا چاہتی ہے کہ اس کارروائی کی اجازت کس سطح پر دی گئی تھی اور اس کے لیے جوابدہی کس کی ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
