سیاست دانوں اور اعلیٰ افسران پر پپو یادو کا تلخ حملہ، 12 سالوں میں بیٹیوں کے ساتھ زیادتیوں پر تشویش کا اظہار

پپو یادو نے کہا کہ پہلے ہم بچوں کو منشیات کی لت سے بچانے کی بات کرتے تھے لیکن اب انہیں سیاستدانوں اور افسران سے بچانے کے لیے ایک بڑے انقلاب کی ضرورت ہے۔ آج کے وقت میں ملک کی بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>پپو یادو کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 بہار کے پورنیا سے لوک سبھی ایم پی پپو یادو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ملک کے سیاست دانوں اور اعلیٰ افسران پر تلخ حملہ کیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ 12 سالوں میں بیٹیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی مسئلہ قرار دیا۔ پپو یادو نے الزام لگایا کہ بیٹیوں کے استحصال میں کئی سیاستدان، سرمایہ دار اور افسران ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 90 فیصد سیاستدان اور افسران ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ پپو یادو نے طنز کستے ہوئے کہا کہ جب سیاستداں اور افسر ہی ان معاملات میں شامل ہیں تو اب بے روزگاری الاؤنس کی جگہ ’سیکس بھتہ‘ اور’سیکس پنشن‘ شروع کردینی چاہئے۔

’اے بی پی نیوز‘ کی خبر کے مطابق ایم پی پپو یادو نے کہا کہ ایک مسئلہ ہے جس سے ملک پریشان ہے، پچھلے 12 سالوں میں اس ملک کے کچھ  لیڈروں نے بیٹیوں اور بچیوں کو ہوس کا شکار بنایا۔ انہوں نے گوا میں لڑکیوں کے ویڈیو اپ لوڈ ہونے اور ’مودی نامہ‘ لکھنے والی ایک خاتون کے ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملوں زیں ابھی تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ پپو یادو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی اخلاقی اقدار کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار سے لے کر پورے ملک میں سیاست دان، سرمایہ دار اور افسران کے ذریعہ ہندوستان کی بیٹیوں کا استحصال کیا جارہا ہے، انہیں گدھ جیسی نظروں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔


ایم پی پپو یادو نے مطالبہ کیا کہ ایسے معاملات میں خاص طور پر جب سیاستدان ملوث ہوں، ایک ماہ کے اندر تیزی سے ٹرائل چلاکر سزا دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہم بچوں کو منشیات کی لت سے بچانے کی بات کرتے تھے لیکن اب انہیں سیاستدانوں اور افسران سے بچانے کے لیے ایک بڑے انقلاب کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ آج کے وقت میں ملک کی بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں اور یہ پورے سماج کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔