راجستھان میں پنچوں نے 43 خاندانوں کے بائیکاٹ کا کیا اعلان، ’مرتیو بھوج‘ میں گھی کا مال پوا نہیں بنانے کی ملی سزا!

متاثرین کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کے بعد گاؤں میں کوئی ان سے بات نہیں کر رہا۔ دکاندار سامان دینے سے منع کر رہے، کھیتوں میں مزدوری نہیں مل رہی اور ان کے خاندانوں کو سماجی تقریبات سے بھی دور رکھا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پنچایت کی علامتی تصویر (اے آئی)</p></div>
i

راجستھان کے ضلع سروہی کے منڈواریا گاؤں سے سماجی بائیکاٹ کا ایک حیران کر دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ’مرتیو بھوج‘ یعنی تعزیتی ضیافت میں گھی کے مال پوئے نہ بنانے پر ناراض سماج کے پنچوں نے 43 خاندانوں کو سماج سے خارج کر دیا۔ اتنا ہی نہیں، ان خاندانوں کا حقہ پانی بھی بند کر دیا گیا، جس کے باعث ان کے سامنے سماجی اور معاشی بحران کھڑا ہو گیا ہے۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ گاؤں کے ایک خاندان میں ’مرتیو بھوج‘ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مالی تنگی کے باعث خاندان گھی کے مال پوئے نہیں بنوا سکا اور ان کی جگہ عام کھانا پیش کیا گیا۔ اس بات سے ناراض ہو کر سماج کے ایک درجن سے زائد پنچوں نے میٹنگ کر کے 43 خاندانوں کے سماجی بائیکاٹ کا فرمان سنا دیا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کے بعد گاؤں میں کوئی ان سے بات چیت نہیں کر رہا ہے۔ دکاندار سامان دینے سے انکار کر رہے ہیں، کھیتوں میں مزدوری نہیں مل رہی اور ان کے خاندانوں کو سماجی تقریبات سے بھی دور رکھا جا رہا ہے۔ خواتین اور بچوں کو بھی اس فیصلہ کے نتائج بھگتنے پڑ رہے ہیں۔


ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ ’’ہم غریب لوگ ہیں۔ تعزیتی ضیافت میں گھی کے مال پوئے بنانے کے لیے پیسے نہیں تھے، اس لیے سادہ کھانا کھلایا۔ لیکن پنچوں نے اسے سماج کی بے عزتی قرار دیتے ہوئے پورے خاندان اور دیگر لوگوں کا بائیکاٹ کر دیا۔ اب نہ کوئی بات کرتا ہے اور نہ ہی کام دیتا ہے۔‘‘ متاثرہ خاندانوں نے اس معاملہ میں مقامی تھانے میں سماج کے پنچوں کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ حالانکہ متاثرہ لوگ الزام عائد کر رہے ہیں کہ پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اس کے بعد تمام متاثرہ خاندان سروہی کلکٹریٹ پہنچے اور انتظامیہ سے انصاف کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ ہندوستانی آئین کے تحت سماجی بائیکاٹ ایک قابل سزا جرم ہے۔ راجستھان سماجی بائیکاٹ انسداد ایکٹ 2019 کے تحت اس کے لیے 7 سال تک قید کی سزا کا التزام ہے۔ احتجاج کرنے والے متاثرین نے کہا کہ پنچوں کا یہ فرمان مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ پولیس کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔