پاکستانی لشکر کا کمانڈر موسیٰ مقابلے میں مارا گیا

جموں و کشمیر کے بڈگام میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں ایک دہشت گرد مارا گیا جس کی شناخت پاکستانی لشکر کے کمانڈر موسیٰ کے طور پر ہوئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

جموں و کشمیر کے بڈگام میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں ایک دہشت گرد مارا گیا ہے۔ مارے گئے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی لشکر کے کمانڈر موسیٰ کے طورپر ہوئی ہے۔ سیکورٹی فورسز کو علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی، جس کے بعد فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف نے مشترکہ تلاشی مہم شروع کی۔ مقابلے میں ایک دہشت گرد کے مارے جانے کے بعد بھی آپریشن نہیں رکا ۔ یہ انکاؤنٹر وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع کے یوس مرگ علاقے میں ہوا۔

سیکورٹی فورسز کو یوس مرگ کے کوراگ علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی تھی۔ جس کے بعد ہندوستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف نے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا۔ انکاؤنٹر کے دوران فوجیوں نے کچھ مشکوک سرگرمی دیکھی۔ انہوں نے دہشت گردوں کو للکارا تو فائرنگ شروع ہو گئی۔ جوابی فائرنگ میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔


حکام نے بتایا کہ موسیٰ کو وسطی کشمیر کے اونچائی والے علاقے میں واقع بڈگام کے جنگلات میں ایک تصادم میں مار گرایاگیا۔ فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مشکوک سرگرمی دیکھنے کے بعد دہشت گردوں کو چیلنج کیا۔ دہشت گردوں نے فائرنگ کی تو فوجیوں نے جوابی کارروائی کی جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔

موسیٰ کا قریبی ساتھی یاسر بھی 5 ستمبر کو ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا تھا۔ حکام کے مطابق موسیٰ جموں و کشمیر میں کئی حملوں میں ملوث تھا اور سیکورٹی فورسز کو مطلوب تھا۔مقابلے میں مارا جانے والا دہشت گرد موسیٰ تھا جو پاکستانی لشکر کا کمانڈر تھا۔ ذرائع سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے میں ایک اور اعلیٰ غیر مقامی لشکر کمانڈر کے چھپے ہونے کا شبہ ہے۔ تصادم کے بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔