ہندوستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی سے ٹماٹر متاثر

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں ٹماٹروں کی کمیابی کی وجہ سے ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، وہیں ہندوستان میں ٹماٹروں کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے ان کی قیمتیں انتہائی کم ہو گئی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
i

ٹماٹر ایک اہم سبزی ہے جو نہ صرف کھانوں کا ذائقہ دوبالا کرنے کے کام آتی ہے بلکہ اس کے بغیر سلاد کو بھی نا مکمل خیال کیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ٹماٹر کھانے سے نہ صرف کئی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ یہ متعدد امراض سے شفایابی کا ذریعہ بھی ہیں۔ لیکن ان دنوں یہ پھل ہند-پاک کشیدہ تعلقات کی زد میں آ کر موضوع بحث ہے۔

’پاکستان فوڈ اینڈ ویجی ٹیبلز امپورٹرز، ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن‘ کے مرکزی چیئرمین محمد اسلم پکھالی کے مطابق پاکستان ہندوستانی سبزیوں کا سب سے بڑا ایمپورٹر تھا اور سال 16-2015 میں پاکستان نے ہندوستان سے 14 ارب روپے مالیت کے ٹماٹر درآمد کیے تھے۔

لیکن اس کے بعد ہندوستان سے سبزیوں کی درآمد پر لگائی جانے والی پابندی کی وجہ سے ٹماٹر ہندوستان سے پاکستان نہیں آ رہے۔ اس وجہ سے پاکستان میں ٹماٹروں کی قیمت 120 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے، پچھلے سال بھی ایسی ہی صورت حال کے بعد قیمت 300 روپے کلو تک پہنچ گئی تھی۔

ادھر مہاراشٹرا کے شہر ناسک میں ٹماٹروں کی قیمتیں چار تا پانچ روپے فی کلو تک گر گئی ہیں اور اس ضلع کے بعض علاقوں میں کاشتکاروں نے اس فصل کو ضائع کرنا شروع کر دیا ہے۔

پچھلے سال بھی انہیں دنوں اور ایسی ہی صورت حال میں اس وقت کے پاکستان کے وفاقی وزیر خوراک سکندر حیات بوسن نے کہا تھا کہ بحران کے باوجود پاکستان ہندوستان سے ٹماٹر اور پیاز درآمد نہیں کرے گا۔

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں کسٹم حکام 'غیر قانونی‘ طور پر ہندوستان سے لائے گئے ان ٹماٹروں کو نیلام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کو کل لاہور کے قریب چھاپہ مار کر قبضے میں لیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق مشرف دور میں ہونے والے ایک ہند-پاک سمجھوتے کی بدولت اب ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیری علاقوں میں پھل اور سبزیاں لانے کی اجازت ہے، لیکن یہ سبزیاں صرف پاکستان کے زیر انتتظام کشمیر کے علاقوں میں ہی استعمال ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں ٹماٹروں کی قلت کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اضافے کے باعث بعض لوگ کشمیر میں آنے والے ہندوستانی ٹماٹروں کو ملک کے دیگر علاقوں میں بیچنے کے لیے لاتے رہے ہیں۔

پاکستان کے کسٹم حکام نے پچھلے چند دنوں میں لاہور، سیالکوٹ اور راوالپنڈی میں چھاپے مار کر مبینہ طور پر ہندوستان سے غیر قانونی طور پر لائے جانے والے ان ٹماٹروں کو قبضے میں لے لیا ہے۔ صرف لاہور میں پکڑے جانے والے تین ٹرکوں میں چالیس لاکھ روپے مالیت کے 21440 کلو ٹماٹر موجود تھے۔ ان ٹرکوں کو پکڑنے والے کسٹم انسپکٹر منصور الہی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ہندوستانی ٹماٹر لانے والے تینوں ٹرکوں پر جرمانے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے پچھلے سال بھی چار ایسے ہی ٹرک پکڑے تھے۔

محمد اسلم پکھالی کے بقول پاکستان میں ٹماٹروں کی کھپت 50 سے 60 لاکھ ٹن ہے، اس کے مقابلے میں پاکستان میں اس سال ٹماٹر کی پیداوار 70 سے 80 لاکھ ٹن کے قریب ہونے کی توقع ہے۔ پکھالی کے مطابق، ’’ہندوستان سے ٹماٹر نہ منگوانے کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے ٹماٹروں کی نئی اقسام باہر سے منگوائی ہیں جس سے پیداوار میں کافی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس مرتبہ ہم عراق کو ٹماٹر برآمد کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔‘‘

محمد اسلم پکھالی نے تاہم یہ گلہ بھی کیا کہ ہند-پاک تجارت کے ضمن میں ہند کا طرز عمل بھی منصفانہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہندوستان میں پاکستانی آم بہت پسند کیے جاتے ہیں لیکن ہندوستان ہمارے آموں کی اپنے ہاں درآمد کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح ہندوستان میں پیاز کی قلت ہو جائے تو وہ پاکستان سے منگوانے کی بجائے چین اور دوسرے ملکوں سے درآمد کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کا کینوں غیر قانونی طور پرہندوستان پہنچ جائے تو پہنچ جائے، لیکن ہندوستان اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘

پاکستان فوڈ اینڈ ویجیٹیبلز امپورٹرز، ایکپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے مرکزی سربراہ نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ ایک ہفتے بعد سندھ سے ٹماٹروں کی فصل تیار ہو کر مارکیٹ میں پہنچنا شروع ہو جائے گی اور ٹماٹروں کی قلت ختم ہو جائے گی جس سے قیمتیں معمول پر آجائیں گی۔

پکھالی کا کہنا تھا، ''ہندوستان میں ٹماٹر ایران سے بھی آتے ہیں لیکن ایرانی ٹماٹر ہندوستان کی نسبت مہنگا پڑتا ہے۔ پاکستان میں کوئی ایسا موثر ادارہ بھی نہیں ہے جو سبزیوں کی سپلائی اور ڈیمانڈ کا درست اندازہ لگا کر کسان کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ اس لیے ہندوستان سے آنکھیں بند کرکے ٹماٹر درآمد کرنے سے پاکستانی کسانوں کو ماضی میں نقصان ہوا تھا اور انہوں نے ٹماٹر کی کاشت ہی ترک کر دی تھی۔ پاکستان میں ٹماٹر بیسڈ انڈسٹری لگانے کی بھی ضرورت ہے۔‘‘

پاکستان کے ایک معروف اقتصادی تجزیہ نگار خالد محمود رسول نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ دنیا بھر میں زیادہ دیر تک تازہ نہ رہ سکنے والے پھلوں اور سبزیوں کی 'سپلائی اور ڈیمانڈ‘ میں توازن برقرار رکھنے کے لیے علاقائی تجارت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’اسی وجہ سے یورپی یونین کی علاقائی تجارت 60 فی صد، نیفٹا کی ریجنل ٹریڈ 50 فیصد جب کہ آسیان خطے میں یہ شرح 20 فی صد کے قریب ہے۔ اس کے مقابلے میں ہندوستان اور پاکستان میں تجارت دو ڈھائی ارب ڈالر کے قریب ہے جو کہ صرف 5 فی صد سے بھی کم ہے۔ اگر حکومت اپنے قومی موقف پر قائم رہتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے ساتھ علاقائی تجارت کو فروغ دے تو اس سے صارفین کا بہت بھلا ہو گا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 29 Sep 2018, 3:56 PM