مغربی ایشیا کشیدگی پر فوری بحث نہ کرانے پر اپوزیشن کا پارلیمنٹ سے واک آؤٹ، حکومت پر خاموشی کا الزام

مغربی ایشیا کشیدگی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن نے فوری بحث کا مطالبہ کیا اور اجازت نہ ملنے پر ایوانوں سے واک آؤٹ کر دیا اور حکومت پر صورتحال پر خاموش رہنے کا الزام عائد کیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر پیر کے روز زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے اس معاملے پر فوری بحث کرانے کا مطالبہ کیا، تاہم اجازت نہ ملنے پر دونوں ایوانوں میں احتجاج کیا گیا اور بعد میں اپوزیشن اراکین نے واک آؤٹ کر دیا۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی مغربی ایشیا کی صورتحال پر سیاسی گرما گرمی بڑھ گئی۔ کانگریس سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے پارلیمنٹ احاطے میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

لوک سبھا میں اپوزیشن کے قائد راہل گاندھی اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے سمیت کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے مکر دروازے پر جمع ہوئے۔ اپوزیشن اراکین ایک بڑا بینر اٹھائے ہوئے تھے جس پر مغربی ایشیا کی صورتحال پر حکومت سے وضاحت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک میں حالات کشیدہ ہیں، ہندوستانی شہری وہاں پھنسے ہوئے ہیں، لیکن مرکزی حکومت خاموش ہے۔ پارٹی نے ایک اور بیان میں کہا کہ ایسے وقت میں ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قومی مفادات کا تحفظ کر سکے، جبکہ حکومت کا خوف اور خاموشی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اسی دوران کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے بھی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ توقع تھی، وزیر خارجہ نے راجیہ سبھا میں از خود بیان دیا، لیکن اس نوعیت کے بیان پر نہ سوال پوچھے جا سکتے ہیں اور نہ وضاحت طلب کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا اپوزیشن مغربی ایشیا کی صورتحال پر فوری بحث چاہتا تھا، لیکن اسے اجازت نہیں دی گئی۔

جے رام رمیش کے مطابق اپوزیشن نے اسی کے خلاف احتجاج درج کراتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات کا کوئی مطلب نہیں ہوتا جن پر نہ سوال کیا جا سکے اور نہ وضاحت مانگی جا سکے۔

دوسری جانب سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی اس مسئلے پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جب بجٹ اجلاس کا وقفہ ہوا تھا تو حالات مختلف تھے، لیکن اب جنگی صورتحال کے سبب ملک کو درپیش چیلنجز بدل چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پارلیمنٹ میں جنگ کے پس منظر میں ہندوستان کے مؤقف، خارجہ پالیسی، توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ اور جنگ زدہ علاقوں میں موجود ہندوستانی شہریوں کی سلامتی جیسے مسائل پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ان علاقوں میں موجود ہندوستانی شہریوں اور صحافیوں کو محفوظ وطن واپس لانے کے اقدامات بھی ترجیحی موضوع ہونا چاہیے۔

ادھر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اندر بھی ہنگامہ جاری رہا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی جانب سے مغربی ایشیا کی صورتحال پر بیان دیے جانے کے دوران اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی کی اور احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ لوک سبھا میں بھی اپوزیشن اراکین نے اسی معاملے پر شور شرابہ کیا جس کے باعث کارروائی متاثر ہوئی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔