ایل پی جی سلنڈر کی قلت پر اپوزیشن کا مرکز پر حملہ، حکومت پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام
ملک کے کئی بڑے شہروں میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت کی خبروں کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ توانائی کی فراہمی کے معاملے میں عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے

نئی دہلی: ملک کے کئی بڑے شہروں میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت کی خبروں کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے رہنماؤں نے حکومت کی توانائی پالیسیوں اور اس کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کرنے کے بجائے گمراہ کر رہی ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے ممبئی اور بنگلورو کے بعض ریستورانوں میں ایل پی جی سلنڈر کی کمی کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھی ایل پی جی سلنڈر کی قلت کے لیے مرکزی حکومت اور پیٹرولیم کی وزارت کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے گھریلو اور کمرشیل ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور اب کئی علاقوں میں گیس سلنڈر کی فراہمی میں تاخیر کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
پرمود تیواری کے مطابق بعض مقامات پر گھریلو گیس سلنڈر کی بکنگ 25 دن سے پہلے ممکن نہیں ہو رہی، جو حکومت کی پالیسی ناکامی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان توانائی کے وسائل کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کر رہا ہے تو حکومت کو اس حوالے سے واضح حکمت عملی پیش کرنی چاہیے اور ملک میں گیس کی مسلسل اور منظم فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔
دریں اثنا، سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے ممبئی اور بنگلورو کے بعض ریستورانوں میں ایل پی جی سلنڈر کی کمی کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں توانائی کے وسائل کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے لیکن حکومت اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ملک میں ایل پی جی اور پیٹرول و ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں استعمال ہونے والے پیٹرول، ڈیزل اور کچے تیل کا تقریباً اسی فیصد حصہ بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہونے کا اثر ملک پر بھی پڑنا فطری ہے۔ رام گوپال یادو نے الزام لگایا کہ خام تیل کی فراہمی میں کمی کے باوجود مرکزی حکومت مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسی معاملے پر سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نیرج کشواہا موریہ نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی پالیسیوں کے سبب عام لوگوں پر پہلے ہی مہنگائی کا بوجھ بڑھ چکا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب گیس کی قلت کی خبریں سامنے آنا انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور جنگ جیسے حالات توانائی کی عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب دستیابی یقینی بنائے۔