چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف راجیہ سبھا میں نیا نوٹس، 73 ارکان کے دستخط

اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے راجیہ سبھا میں نیا نوٹس جمع کرا دیا، جس پر 73 ارکان کے دستخط ہیں اور 9 مخصوص الزامات عائد کیے گئے ہیں

<div class="paragraphs"><p>چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ایک نیا نوٹس جمع کرا دیا ہے، جس پر ایوانِ بالا کے 73 ارکان کے دستخط درج ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے قبل پیش کیے گئے نوٹس کو مسترد کیا جا چکا تھا، جس کے بعد اپوزیشن نے مزید تفصیل اور دستاویزی بنیادوں کے ساتھ اپنی کوشش کو آگے بڑھایا ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹس آئینِ ہند کے متعلقہ دفعات کے تحت جمع کرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق نوٹس میں آئین کے آرٹیکل 324(5) کے ساتھ آرٹیکل 124(4)، نیز چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری، خدمات کی شرائط اور مدتِ کار سے متعلق قانون 2023 اور ججوں کی جانچ کے قانون 1968 کا حوالہ دیا گیا ہے۔


جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ گیانیش کمار کے خلاف اب نو مخصوص الزامات موجود ہیں، جنہیں تفصیل کے ساتھ دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کو آسانی سے رد یا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ معاملہ آئینی ذمہ داریوں سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے پر رہتے ہوئے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایات کے مطابق کام کر رہے ہیں، جو کہ جمہوری اداروں کی خود مختاری کے لیے نقصان دہ ہے۔

اس سے پہلے بھی اپوزیشن نے 12 مارچ کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں نوٹس جمع کرایا تھا، جس پر لوک سبھا کے 130 اور راجیہ سبھا کے 63 ارکان کے دستخط تھے۔ تاہم 6 اپریل کو راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن اور لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اس نوٹس کو مسترد کر دیا تھا۔ اس مستردی کے بعد اپوزیشن نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے نئے شواہد اور تفصیل کے ساتھ ایک تازہ نوٹس پیش کیا ہے۔


پہلے نوٹس میں بھی اپوزیشن نے گیانیش کمار پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ انتظامیہ کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خصوصی گہری نظرثانی کی کارروائی کے ذریعے بڑی تعداد میں ووٹروں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل نے انتخابی شفافیت اور جمہوری اصولوں پر سوال کھڑے کیے ہیں۔

نیا نوٹس جمع کرائے جانے کے بعد اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اس بار اسے منظور کیا جاتا ہے یا ایک بار پھر مستردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ اقدام پارلیمانی سطح پر ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔