اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں یو سی سی کے وقت اور ضرورت پر سوال اٹھایا، ذرائع

قانون اور انصاف کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کل 30 ارکان میں سے 17 ارکان نے شرکت کی او اس اجلاس کی صدارت بی جے پی کے ایم پی سشیل مودی نے کی۔

<div class="paragraphs"><p>یو سی سی، علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>

یو سی سی، علامتی تصویر آئی اے این ایس

user

ایشلن میتھیو

اپوزیشن جماعتوں نے پیر کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ سشیل مودی کی سربراہی میں پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) پر 22 ویں لا کمیشن کے مشاورت کی ضرورت اور وقت پر سوال اٹھایا۔

اجلاس 3 جولائی کو منعقد ہوا اور اس سے پہلے اس موضوع پر 21 ویں لا کمیشن کا 2018 کا مشاورتی مقالہ اس کے ممبروں کو بھیج دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ یکساں سول کوڈ نہ تو مطلوب ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ 14 جون 2022 کو لا کمیشن آف انڈیا نے یو سی سی پر عوام سے تجاویز طلب کیں اور جمع کرانے کی آخری تاریخ 14 جولائی مقرر کی گئی۔ اگست 2018 میں جاری ہونے والے ’عائلی قوانین کی اصلاحات‘ پر 185 صفحات پر مشتمل مشاورتی مقالے میں کہا گیا ہے کہ یکسانیت کا مطالبہ ملک کی علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔


غورطلب ہے کہ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے 30 ارکان میں سے صرف 17 نے شرکت کی۔ بی جے پی کے سشیل کمار مودی، مہیش جیٹھ ملانی، وینا دیوی، درشنا سنگھ، رمیش پوکھریال، سندھیا رے، چاوڈا ونود لکھاماشی اور اپیندر سنگھ راوت، کانگریس کے وویک تنکھا، جسبیر سنگھ گل، مانیکم ٹیگور اور کلدیپ رائے شرما، ڈی ایم کے کے پی ولسن، شیو سینا (یو بی ٹی) کے سنجے راوت، شیو سینا کے راجن وچارے، بی آر ایس کے کے آر سریش ریڈی، اور بی ایس پی کے ملوک ناگر مذاکرات کا حصہ تھے۔

ذرائع کے مطابق کانگریس قائدین نے یو سی سی پر مشاورت کے وقت پر سوال اٹھایا۔ ذرائع نے بتایا کہ مانیکم ٹیگور نے یہ سوال کرتے ہوئے کہ کیا حکومت ریاستی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کرے گی یا ریاستی مخصوص ترامیم کا بندوبست کرے گی، اس بات کی نشاندہی کی کہ حکومت نے اس موضوع پر اپنا ایجنڈا بیان نہیں کیا ہے۔


کانگریس کے رہنما یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا مرکزی حکومت نے ان اصولوں کی نشاندہی کی ہے جو یکسانیت کے حصول میں رہنمائی کریں گے اور آیا حکومت نے غور کیا ہے کہ یو سی سی یا پرسنل لا میں اصلاحات کی کوشش فطرت میں سیکولر ہوگی اور صنفی مساوات کی ضمانت دے گی؟ انہوں نے مبینہ طور پر یہ بھی استفسار کیا کہ جب 21 ویں لا کمیشن نے اپنی رائے پیش کر دی تھی تو کیا دوسرے مشاورتی عمل کی ضرورت ہے؟

ڈی ایم کے اور کانگریس دونوں ارکان پارلیمنٹ نے سوال کیا کہ کیا اس سے ریاستوں کی خودمختاری متاثر نہیں ہوگی؟ ذرائع نے بتایا کہ ڈی ایم کے ایم پی پی ولسن نے نشاندہی کی کہ یو سی سی ریاستوں کو شہریوں کے لیے قانون سازی کرنے کی طاقت سے محروم کر سکتی ہے۔ آرٹیکل 371 میں کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور شمال مشرقی ریاستوں کے لیے کچھ مستثنیات دی گئی ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا مرکزی حکومت ان تمام قوانین میں ترمیم کرے گی جو آئین کے وفاقی ڈھانچے پر تجاوز کرتے ہیں۔


تمام اپوزیشن لیڈر یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا یو سی سی کو متعارف کرانے سے آئین کے آرٹیکل 25 میں درج مساوات اور مذہبی آزادی کی روح کو چیلنج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یو سی سی یہ غریب مخالف اور قبائلی مخالف ہے۔ ذرائع کے مطابق ولسن نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 29 اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور انہیں اس کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ولسن نے وضاحت کی کہ مختلف مذاہب میں شادی کے لیے مختلف رسومات ہیں۔ یو سی سی ہندو حقوق اور رسوم و رواج کو بھی نقصان پہنچائے گا کیونکہ کوڈ صرف سول اتھارٹی کے سامنے رجسٹرڈ شادیوں کو ہی تسلیم کرے گا۔

ذرائع کے مطابق شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے اس بات پر زور دیا کہ یو سی سی چھٹے شیڈول کے تحت قبائلی برادری کے طریقوں کی خلاف ورزی کرے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جب تک کسی کو معلوم نہ ہو کہ لاء کمیشن نے کیا تیار کیا ہے، عوام اس موضوع پر بہتر فیصلہ نہیں کر سکتے۔


وہیں، اپوزیشن لیڈروں کا مقابلہ کرتے ہوئے بی جے پی لیڈروں نے قانون کے نفاذ کی حمایت کی۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی کے ایم پی مہیش جیٹھ ملانی نے کہا کہ انہوں نے دستور ساز اسمبلی کے مباحثوں کا مطالعہ کیا ہے اور اس سے یہ واضح ہے کہ بانی یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنا چاہتے تھے لیکن وہ بھی یہ نہیں بتا سکے کہ اصل میں کیا لاگو کیا جانا چاہئے؟

ذرائع کے مطابق کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ نے نشاندہی کی کہ امبیڈکر کی نیت پر سوالیہ نشان نہیں تھا لیکن مودی حکومت کی نیت صاف نہیں تھی۔ ولسن نے ذکر کیا کہ یو سی سی کو آرٹیکل 44 کے تحت رکھا گیا تھا، جو ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں کے تحت آتا ہے، اور آئین ساز اسمبلی کے اندر شدید مخالفت کی وجہ سے اسے پابند آرٹیکلز کا حصہ نہیں بنایا گیا۔


ایک اور بی جے پی ممبر نے بتایا کہ یو سی سی وقت کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی کے چند لیڈر قبائلیوں کو یو سی سی کے دائرے سے باہر رکھنا چاہتے تھے کیونکہ ہر قانون میں استثناء ہوتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک بی آر ایس ایم پی نے جاننا چاہا کہ حکومت یو سی سی کے ذریعے کیا تبدیلی لانے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور یہ کہ مسودے کے بغیر اس مسئلے پر تبصرہ کرنا مشکل ہوگا۔

وویک تنکھا، جو اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے اس موضوع پر اپنا نوٹ ٹوئٹ کیا جس میں بتایا گیا کہ 2018 کے پیپر نے کئی گروپوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کہا تھا کہ ’’یکساں سول کوڈ پر کسی اتفاق رائے کی عدم موجودگی میں آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ذاتی قوانین کے تنوع کو برقرار رکھنا ہوگا لیکن ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ پرسنل لاز ملک کے آئین کے تحت دیئے گئے بنیادی حقوق سے متصادم نہ ہوں۔‘‘


جوائنٹ سکریٹری ورشا چندرا اور لا کمیشن کے ممبر سکریٹری کھیترباسی بسوال، قانون ساز محکمہ کے ایڈیشنل سکریٹری کے آر سج کمار اور قانونی امور کے محکمہ کی جوائنٹ سکریٹری سنیتا آنند بھی ان مذاکرات کا حصہ تھے۔ متعدد رہنماؤں کے ذریعہ پوچھے گئے تمام سوالات کے جواب میں لا کمیشن کے ارکان نے کہا کہ وہ صرف مشاورتی مرحلے میں ہیں اور فی الحال فراہم کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی دستاویز نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔