آپریشن سندور: ایس-400 نے 314 کلومیٹر دور موجود پاکستانی طیارہ کو تباہ کر دیا تھا، وزارت دفاع کی رپورٹ میں انکشاف

وزارت دفاع کے مطابق ہندوستانی ریڈاروں نے خاموشی سے پاکستانی خطرے کو ٹریک کیا اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نے اپنے زیادہ سے زیادہ ہدف کے دائرے پر جا کر دشمن کے طیارہ کو تباہ کر دیا۔

<div class="paragraphs"><p>آپریشن سندور، تصویر ’ایکس‘&nbsp;@narendramodi</p></div>
i

’آپریشن سندور‘ کے دوران ہندوستانی فضائیہ کے ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم نے سرحد پر دشمن کے علاقے میں 314 کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستانی فضائیہ کے ایک ’اسپیشل مشن‘ طیارہ کو مار گرایا تھا۔ وزارت دفاع کی 26-2025 کی سالانہ رپورٹ میں اس تاریخی فوجی کارروائی کا آفیشیل طور پر انکشاف کیا گیا ہے۔ اسے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (ایس اے ایم) سسٹم کے ذریعہ کی گئی اب تک کی سب سے لمبی اور درست ترین کارروائیوں میں سے ایک مانا جا رہا ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق ہندوستانی ریڈاروں نے خاموشی سے پاکستانی خطرے کو ٹریک کیا اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نے اپنے زیادہ سے زیادہ ہدف کے دائرے پر جا کر دشمن کے طیارہ کو تباہ کر دیا۔ اس کارروائی نے پاکستان کے اس وہم کو توڑ دیا کہ فاصلہ انہیں ہندوستانی میزائلوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ 4 دنوں تک چلے ’آپریشن سندور‘ کے دوران ہندوستانی فضائیہ نے سودیشی ’انٹیگریٹڈ ایئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم‘ (آئی اے سی سی ایس) کے ذریعہ فوجی اور سویلین نگرانی کے سسٹم کو آپس میں جوڑ کر ایئر ڈیفنس کی کارروائیوں کو انجام دیا۔


ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کے چکلالہ، رحیم یار خان، سکھر، مرید، سرگودھا، جیکب آباد اور بھولاری واقع فوجی تنصیبات، ریڈار اور کمانڈ سنٹرز کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے فوجی تصادم کے دوران بھی اپنا سویلین ایئر اسپیس کھلا رکھا تھا، جبکہ ہندوستان نے بین الاقوامی پروازوں کی سیکورٹی کا پورا خیال رکھا اور کسی بھی غیر فوجی طیارے کو نقصان نہیں پہنچنے دیا۔ قابل ذکر ہے کہ اس آپریشن کے کامیاب انعقاد کے بعد وزیر اعظم مودی نے خود آدم پور ایئرفورس اسٹیشن جا کر فضائیہ کے جوانوں کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ آپریشن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہندوستانی فضائیہ کے جوانوں کو 219 صدارتی گیلنٹری ایوارڈ سے نوازا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔