آن لائن تنازعات کا حل گیم چینجر ثابت ہوا : جسٹس چندرچوڑ

حکومت ہند کے الیکٹرانک لین دین کے تجزیہ کار کے مطابق، 2018 میں ای کورٹس نے کل الیکٹرانک لین دین کے معاملے میں ہندوستانی ریلوے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویربشکریہ آئی اے این ایس</p></div>

تصویربشکریہ آئی اے این ایس

user

یو این آئی

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے اتوار کو کہا کہ ورچوئل عدالتوں کی پہل آن لائن تنازعات کے حل میں گیم چینجر ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا ’’حکومت ہند کے الیکٹرانک لین دین کے تجزیہ کار کے مطابق، 2018 میں ای کورٹس نے کل الیکٹرانک لین دین کے معاملے میں ہندوستانی ریلوے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔‘‘

عدالت عظمیٰ کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں کے لیے انصاف تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ طریقہ کار کے منصفانہ پن کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے تحت کئی رکاوٹوں اور سہولیات کی رسائی کے معاملے میں تفاوتوں کی پہنچان کرکے انہیں دور کیا جا رہا ہے۔


جسٹس چندر چوڑ نے عدالت عظمیٰ کے آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مختلف پروجیکٹوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2023 میں جدید ورژن کے ٹیکنالوجی کے آغاز کے بعد سے تقریباً 1,28,000 ای فائلنگ کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا ’’ای فائلنگ 25 ریاستوں میں دستیاب ہے، جہاں 29 لاکھ سے زیادہ کیس رجسٹر کیے گئے ہیں۔‘‘ بار اور بینچ کی مناسب مدد کے ساتھ، ہم کووڈ 19 کے دوران ورچوئل طور پر تیزی سے سماعت کرنے کے قابل ہو گئے۔


چیف جسٹس نے کہا کہ عالمی وبا کے بعد روایتی اور ورچوئل (ہائبرڈ) انداز میں سماعت عدالتوں کی خصوصیت بنی ہوئی ہے، جس سے ملک یا دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھے کسی بھی ہندوستانی وکیل کو اس عدالت کے سامنے دلائل دینے کی اجازت ملتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔