ملک میں ہر 3 میں سے ایک وکیل فرضی! سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا

عرضی میں بار کونسل آف انڈیا کے سربراہ منن مشرا کے ایک بیان کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بار میں 30 سے 40 فیصد وکلاء فرضی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>وکلا کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i

ملک میں فرضی وکلاء کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے منگل (11 اگست) کو ایک عرضی پر جواب طلب کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ فرضی وکلاء کے خلاف کارروئی کی ذمہ داری مرکزی تحقیقاتی ایجنسی یعنی سی بی آئی کو سونپی جائے۔ سماعت کے دوران سی جے آئی سوریہ کانت کی بنچ نے اسے سنگین معاملہ قرار دیا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ وکالت ایک اہم پیشہ ہے، اگر یہاں فرضی لوگ رہتے ہیں تو اس سے عدالتی ادارے کے وقار کو نقصان پہنچے گا۔

عرضی میں بار کونسل آف انڈیا کے سربراہ منن مشرا کے ایک بیان کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ بار میں 30 سے 40 فیصد وکلاء فرضی ہیں۔ یعنی ہر 3 میں سے ایک وکیل ملک میں فرضی ہے۔ ان کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال جون میں بار کونسل کے وکیل پرشانت کمار اور وپن نائر نے سپریم کورٹ میں اس ڈیٹا کو رکھا تھا۔ ان دونوں کا کہنا تھا کہ اس پر جلد از جلد توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ایک بڑا معاملہ ہے۔


راجا چودھری نامی ایک وکیل نے یہ عرضی داخل کی ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران انہوں نے کہا کہ پیشے کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، جو لوگ اصل میں وکیل نہیں وہیں وہ اس کے نام پر وصولی کر رہے ہیں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس پر سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ ہاں 105 وکلاء کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ عرضی گزار نے اس دوران کہا کہ 1000 سے زائد فرضی وکیل الٰہ آباد میں ہیں۔ عرضی گزار کے مطابق اسی طرح دیگر ریاستوں کا بھی حال ہے۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل کفیل خان بمقابلہ اتر پردیش کے ایک معاملہ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ وکالت کے پیشے میں مافیا لوگ بیٹھے ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد یوپی میں فرضی وکلاء کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ الٰہ آباد میں بار کونسل کی سفارش پر 68 وکلاء کے خلاف ایف آئی آر کی گئی ہے۔ یوپی پولیس کا کہنا ہے کہ تقریباً 100 ایف آئی آر درج ہونے ہیں۔ اسے آہستہ آہستہ عمل میں لایا جائے گا تاکہ کوئی رکاوٹ نہ پیش آئے۔


قابل ذکر ہے کہ اگست 2023 میں وزارت قانون نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان میں فی الحال 20 لاکھ رجسٹرڈ وکلاء ہیں۔ بار کونسل کے مطابق ہر سال تقریباً 80 ہزار وکیل کا اندراج ہو رہا ہے۔ وکالت کے پیشے میں آنے کے لیے لا کی ڈگری ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بار کونسل آف انڈیا ایک ٹیسٹ لیتا ہے، جسے پاس کرنے کے بعد ہی پریکٹس کی اجازت ملتی ہے۔ وکلاء کی پریکٹس کی حقیقت جانچنے کے لیے بار کونسل آف انڈیا ’سرٹیفکیٹ اینڈ پلیس آف پریکٹس ویری فکیشن رولز-2015‘ کا استعمال کرتا ہے۔ اس کے تحت ہر 5 سال میں وکلاء کی پریکٹس کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جاتی ہے۔ وکلاء کو بار کونسل کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ فی الحال وہ کہاں پریکٹس کر رہے ہیں اور کب سے پریکٹس کر رہے ہیں۔ درست معلومات فراہم نہ کرنے پر بار کونسل کے پاس وکلاء کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار ہے۔