’کس تجویز کی بنیاد پر کی گئی اپوزیشن لیڈر کی تقرری؟‘ ہائی کورٹ نے اسمبلی اسپیکر کے فرائض اور اختیارات پر طلب کی وضاحت
جج نے اسمبلی اسپیکر کے وکیل سے پوچھا کہ 2 باغی ممبران اسمبلی کی شکایت 27 مئی کو آئی جبکہ پارٹی کی جانب سے شوبھندیب کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا خط 20 مئی کو ملا، تو کیا اعتراض آنے کا انتظار کیا جارہا تھا؟
کولکاتہ ہائی کورٹ نے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب ایک ہی سیاسی پارٹی کی جانب سے 2 متضاد تجویز موصول ہوئیں تو اسپیکر نے کس بنیاد پر فیصلہ لیا۔ عدالت مغربی بنگال کی تاریخ میں پہلی بار سامنے آئے ایسے تنازعہ کی سماعت کر رہی تھی، جو ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ شوبھندیب چٹوپادھیائے نے ایک رٹ پٹیشن دائر کر کے ان کے نام کو خارج کئے جانے اور پارٹی کے دوسرے ممبر اسمبلی رتبرت بنرجی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کئے جانے کو چیلنج کیا ہے۔
اسمبلی اسپیکر کی جانب سے پیش وکیل بلودل بھٹاچاریہ کی دلیل پر جسٹس کرشنا راؤ نے تنقید کی کہ جب اسپیکر کو 2 الگ الگ تجاویز موصول ہوئی تھیں تو وہ ایوان میں بغیر اکثریت ثابت کرائے اپنے کمرے میں بیٹھے بیٹھے یہ کیسے طے کرسکتے تھے کہ کون سی تجویز صحیح ہے اور کون سی غلط؟
جسٹس نے اسپیکر کی جانب سے پیش ہوئے وکیل سے سوال کیا کہ 2 باغی ممبران اسمبلی کی شکایت 27 مئی کو اسپیکر کے پاس آئی جبکہ پارٹی کی جانب سے شوبھندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا خط 20 مئی کو بھیجا گیا تھا تو کیا اعتراض آنے کا انتظار کیا جارہا تھا؟ عدالت نے کہا کہ عرضی گزاروں کا اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ اسپیکر نے پارٹی کی تجویز کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی دوسرے شخص کو اپوزیشن کا لیڈر کیسے مقرر کر دیا۔ عدالت نے ایسے غیر معمولی حالات میں اسپیکر کے فرائض اور اختیارات کے حوالے سے وضاحت طلب کی۔
جج نے کہا کہ ’میں مانتا ہوں دستخطوں میں مبینہ تضادات کے حوالے سے ان کے دعوے متنازع ہیں لیکن صحیح یا غلط، اسپیکر کو 9 مئی کو ایک تجویز موصول ہوئی تھی اور پھر 20 مئی کو پارٹی کی میٹنگ کی تجویز (ریزولیوشن) کی کاپی بھی حاصل ہوئی۔ پھر وہ خاموش کیوں رہے؟ مان لیا کہ تنازع تھا لیکن یہ تنازع تو 27 مئی کو سامنے آیا۔ ایسے حالات میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کس تجویز کی بنیاد پر کی گئی؟ عدالت کا یہ تبصرہ اسمبلی اسپیکر کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے عمل اور ان کے فیصلہ لینے کے اختیارات پر اٹھے سوالات کے سلسلے میں سامنے آیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
