نظر بندی کے دوران عمر اور محبوبہ میں ہوا جھگڑا، عمر کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا

گرفتاری کے بعد عمر اور محبوبہ کو ایک ہی جگہ ہری نواس میں رکھا گیا تھا لیکن دونوں میں اتنا جھگڑا ہوا کہ عمر کو وہاں سے دسری جگہ منتقل کیا گیا

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے کے بعد حالات کو قابو میں رکھنے کی غرض سے جموں و کشمیر کے دو سابق وزراء اعلی عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو گرفتار کر کے ہری نواس میں نظر بند رکھا گیا تھا لیکن نظربندی کے دوران دونوں میں اس قدر جھگڑا ہوا کہ عمر عبداللہ کو دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا ۔

انگریزی اخبار دی ٹائمس آف انڈیا میں شائع خبر کے مطابق محبوبہ مفتی نے ان حالات کے لئے عمر عبد اللہ سے کہا کہ سب کے لئے ان کے والد فاروق عبداللہ ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے ہی پہلی مرتبہ اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ اتحاد کر کے ان کی حکومت میں وزارت لی تھی ۔ وہاں موجود ایک افسر کے مطابق عمر عبد اللہ نے محبوبہ پر چلاتے ہوے کہا کہ ان کے والد مفتی سعید نے سال 2015 سے سال 2018 کے درمیان بی جے پی کے جو اتحاد کیا اس کی وجہ سے بی جے پی کی یہ کرنے کی ہمت ہوئی ۔

خبر کے مطابق اس موقع پر محبوبہ نے عمر عبد اللہ کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ان کے والد فاروق عبد اللہ ہی سب سے پہلے بی جے پی کے ساتھ گئے تھے اور واجپئی حکومت میں وزیر بنےتھے ۔محبوبہ نے سارے حالات کے لئے عمر کے دادا شیخ عبد اللہ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ۔

واضح رہے گرفتاری کے دوران دونوں کو ہری نواس میں نظر بند رکھا گیا تھا اور عمر عبداللہ کو زمینی منزل میں ٹھہرایا گیا تھا جبکہ محبوب مفتی پہلی منزل پرتھیں ۔ جھگڑے کے بعد عمر کو فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے گیسٹ ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا ہے جبہ محبوبہ ہری نواس میں ہی ہیں ۔ یہ وہی جگہ ہے جو پہلے وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے طور پراستعمال ہوتی تھی اور غلام نبی آزاد جب وزیر اعلی تھے تو وہیں رہتے تھے لیکن بعد میں یہاں کوئی نہیں رہا۔