عمر عبداللہ اور پایل کے طلاق کو سپریم کورٹ کی ملی منظوری، دونوں 17 سالوں سے تھے علیحدہ

سپریم کورٹ کے سامنے سماعت کے دوران دونوں فریقوں کی نمائندگی کر رہے سینئر وکیل کپل سبل نے بنچ کو بتایا کہ میاں بیوی نے اپنے باہمی اختلافات کو مکمل طور پر حل کر لیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>عمر عبداللہ / آئی اے این ایس</p></div>
i

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور کئی سالوں سے علیحدہ رہ رہی ان کی اہلیہ پایل عبداللہ کا 17 سال پرانا ازدواجی رشتہ باضابطہ طور پر ختم ہونے جا رہا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے باہمی رضامندی سے طلاق لینے اور ایک دوسرے کے خلاف درج تمام زیر التوا قانونی مقدمات واپس لینے کی اطلاع دیے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کو نمٹانے کی بات کہی ہے۔ سپریم کورٹ میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے کی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران دونوں فریقوں کی نمائندگی کر رہے سینئر وکیل کپل سبل نے بنچ کو بتایا کہ میاں بیوی نے اپنے باہمی اختلافات کو مکمل طور پر حل کر لیا ہے۔

سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ ’’دونوں نے آزادی کو اپنا لیا ہے۔ دونوں نے باہمی رضامندی سے شادی ختم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 142 کا استعمال کرتے ہوئے 22 جولائی کو درخواست دائر کی ہے۔‘‘ اس پر جسٹس نرسمہا نے کہا کہ عدالت اب سمجھوتے کی شرائط کے مطابق مناسب حکم جاری کر کے اس معاملے کو نمٹا دے گی۔


قابل ذکر ہے کہ عمر عبداللہ اور پایل کی ملاقات دہلی کے اوبرائے ہوٹل میں کام کرنے کے دوران ہوئی تھی، جس کے بعد 1994 میں دونوں کی شادی ہوئی۔ اس شادی سے ان کے 2 بیٹے، ظہیر اور ضمیر ہیں۔ تاہم، 2009 سے ہی دونوں الگ رہنے لگے تھے اور 2011 میں عمر عبداللہ نے عوامی طور پر 17 سال پرانے اس ازدواجی رشتے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ عمر عبداللہ نے سب سے پہلے فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔ لیکن 2016 میں فیملی کورٹ نے الزامات کو مبہم قرار دیتے ہوئے درخواست خارج کر دی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ دسمبر 2023 میں دہلی ہائی کورٹ نے بھی فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور عمر عبداللہ کو پایل کو 1.5 لاکھ روپے ماہانہ نان نفقہ اور بیٹے کی تعلیم کے لیے 60,000 روپے ماہانہ ادا کرنے کی ہدایت دی تھی۔

ہائی کورٹ کے اس حکم کو عمر عبداللہ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے معاملے کو ثالثی کے لیے بھیجے جانے کے بعد دونوں فریقوں نے تمام قانونی لڑائیوں کو ختم کر کے باہمی رضامندی سے باوقار طریقے سے علیحدگی اختیار کرنے کا راستہ منتخب کیا ہے۔ اب 32 سال قبل ہوئی یہ شادی ایک طرح سے مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ 15 سال دونوں ساتھ رہے، اور پھر 2011 میں عوامی طور پر علیحدگی کا اعلان ہوا جب ازدواجی زندگی کے 17 سال ہو چکے تھے۔ اس کے بعد مزید 15 سال ایک دوسرے پر الزامات اور قانونی لڑائیوں میں گزر گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔