این ایس یو آئی کا شاستری بھون کے باہر تالی تھالی بجا کر احتجاج

این ایس یو آئی کارکنان نے تالی-تھالی بجا کر احتجاج کرتے ہوئے نیٹ پیپر لیک، سی بی ایس ای او ایس ایم معاملے اور 3 زبانوں کی پالیسی پر حکومت اور این ٹی اے کو طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ کا ذمہ دار ٹھہرایا

<div class="paragraphs"><p>احتجاج کرتے این ایس یو آئی کے کارکنان</p></div>
i
user

محمد تسلیم

google_preferred_badge

نئی دہلی: نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے آج راجدھانی دہلی کے شاستری بھون کے باہر مرکزی حکومت، وزارت تعلیم اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے خلاف تالی-تھالی احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران، کارکنان نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ نیٹ پیپر لیک، سی بی ایس ای کے او ایس ایم مدعے اور تین زبانوں کی پالیسی کے تعلق سے حکومت پر طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔

احتجاجی مظاہرے میں طلبہ کے کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی، تالیاں بجائیں اور پلیٹیں بجا کر ’گو دھرمیندر گو‘، ’گو این ٹی اے گو‘ اور ’گو بی جے پی گو‘ جیسے فلک شگاف نعرے لگائے۔ این ایس یو آئی کے لیڈران نے کہاکہ امتحانات سے متعلق جاری تنازعات اور تعلیمی پالیسیوں سے متعلق الجھنوں نے طلباء اور والدین میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

این ایس یو آئی نے الزام لگایا کہ نیٹ امتحان کے ارد گرد جاری بے ضابطگیوں اور تضادات نے لاکھوں طلباء کے اعتماد کو ختم کر دیا ہے۔ امتحانی عمل میں شفافیت اور جوابدہی کے فقدان نے طلبہ کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔


این ایس یو آئی نے مطالبہ کیا کہ نیٹ تنازعہ کی غیر جانبداری سے جانچ کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکے۔

احتجاج کے دوران این ایس یو آئی نے سی بی ایس ای کے او ایس ایم کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 12ویں جماعت کے طلباء کو ابہام اور تکنیکی مسائل کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ این ایس یو آئی نے مطالبہ کیا کہ سی بی ایس ای جلد از جلد صورتحال کو واضح کرے اور متاثرہ طلبہ کو راحت فراہم کرے تاکہ ان کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثر نہ پڑے۔

این ایس یو آئی نے مرکزی حکومت کی سہ زبانی پالیسی کے خلاف بھی احتجاج کیا۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ اس پالیسی کو طلباء اور ماہرین تعلیم کے ساتھ وسیع مشاورت کے بغیر لاگو کیا جا رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی تعلیمی پالیسی کو لاگو کرنے سے پہلے طلبہ، اساتذہ اور ماہرین تعلیم سے مشاورت ہونی چاہیے تاکہ طلبہ کے انتخاب اور تعلیمی آزادی متاثر نہ ہو۔

این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کہا کہ وزارت تعلیم کی مسلسل ناکامیوں سے ملک بھر کے طلباء ناراض اور مایوس ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نیٹ تنازعہ، سی بی ایس ای، او ایس ایم مسئلہ اور سہ زبانوں کی پالیسی جیسے معاملات میں طلباء کے مفادات کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک طلباء کو انصاف نہیں مل جاتا اور جوابدہی طے نہیں ہوتی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔