این ایس یو آئی نے تعلیمی نظام کا علامتی جنازہ نکال کر کیا زبردست احتجاج
علامتی جنازہ نکال کر این ایس یو آئی نے مطالبہ کیا کہ این ٹی اے کو فوری تحلیل کیا جائے، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں اور نیٹ پیپر لیک سے متاثرہ طلباء کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے

نئی دہلی: نیٹ پیپر لیک معاملے پر این ایس یو آئی نے پیر کے روز مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اور ناقص تعلیمی نظام کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں علامتی جنازہ نکال کر این ایس یو آئی نے مطالبہ کیا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) فوری طور پر تحلیل کی جائے ، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں اور نیٹ پیپر لیک سے متاثرہ طلباء کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔
این ایس یو آئی نے کیا کہ پیپر لیک، امتحانات کی منسوخی اور جاری افراتفری نے لاکھوں طلباء کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ این ایس یو آئی ان لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے جنہوں نے اس ذہنی دباؤ کی وجہ سے اپنی جانیں گنوائیں۔ ہر طالب علم کی موت اس بد عنوان اور ناکام تعلیمی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ این ایس یو آئی نے الزام لگایا کہ امتحانی نظام میں جاری بے قاعدگیوں کے باوجود حکومت ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بار بار پیپر لیک ہونے اور امتحانی نظام کی ناکامی نے طلباء کو مایوسی اور ذہنی تناؤ کا شکار کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی لاپرواہی طلباء کے مستقبل کو مسلسل متاثر کر رہی ہے اور لاکھوں امیدواروں کا تعلیمی نظام سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی ملک بھر میں طلباء کے لیے انصاف کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
این ایس یو آئی کے کارکن اکھلیش نے کہا کہ بار بار پیپر لیک ہونے سے ملک کے طلباء کے مستقبل اور اعتماد دونوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک ہونے کے بعد کئی طلباء نے خودکشی کی ہے، اس کے باوجود مرکزی حکومت، وزارت تعلیم اور (این ٹی اے) نے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی ہے۔
اکھلیش نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر مستعفی ہو جائیں اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو ختم کیا جائے۔ این ایس یو آئی نے مطالبہ کیا کہ مستقبل کے امتحانات سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں کرائے جائیں تاکہ شفاف اور منصفانہ امتحانی عمل یقینی بنایا جا سکے۔
این ایس یو آئی کے لیڈران نے متنبہ کیا کہ جب تک طلباء کو انصاف نہیں ملتا اور امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی نہیں بنایا جاتا ملک بھر میں احتجاج جاری رہے گا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
